خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 399

399 64 (فرموده ۹ مئی ۱۹۲۴ء) سورہ فاتحہ کی لطیف تفسیر مشهد تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : مومن کا فرض جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں بتلایا گیا ہے یہ ہے کہ وہ ساری دنیا کو ہدایت دے اور اسلام نے اس امر پر خصوصیت سے زور دیا ہے کہ انسان کو خدا نے اس لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ اپنے ہی فائدہ کو مد نظر رکھے۔اور بحیثیت فرد زندگی بسر کرے۔بلکہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ جماعتی زندگی بسر کرے۔اس جماعت کے افراد کو فائدہ پہنچانے کا خیال رکھے۔اور ان کو ہدایت دینے میں کوشاں رہے۔اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ تمام کے فوائد کے لئے زندگی بسر کرے۔اور اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : کنتم خیر امة اخرجت للناس (آل عمران (۱) تم سب سے بہتر امت ہو۔کیوں؟ اس لئے کہ تمہاری صفت یہ ہے کہ تم اپنی ذات کی تکمیل ہی کرنے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔بلکہ تم لوگوں کے قیام کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔پس مسلم کا یہ فرض عین ہے کہ وہ اپنی ذات کے فائدہ کو نہ دیکھے بلکہ اوروں کو فائدہ دینے کے لئے زندگی بسر کرے یہی مسلم کی غرض اور اس کا عین مقصود ہے اور اسی مضمون کو سورہ فاتحہ میں ادا کیا گیا ہے کہ انسان اپنے وجود کے فوائد کو مد نظر نہ رکھے۔بلکہ اوروں کو فائدہ پہنچانا اس کا اولین مقصد ہو۔چنانچہ سورہ فاتحہ کے شروع میں الحمد للہ رب العالمین میں خدا اور بندے کے تعلق کا ذکر نہیں کیا گیا نہ ہی الرحمن الرحیم میں بندے کے تعلق کو خدا سے بتایا گیا ہے اور نہ ہی مالک یوم الدین میں ہی اس کے خدا سے تعلق کا اظہار کیا گیا ہے۔بلکہ صرف تین جگہ خدا اور بندے