خطبات محمود (جلد 8) — Page 367
367 یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو بچے دل سے ہماری صداقت کی تلاش کرے گا۔وہ ضرور پالے گا۔پس جب انسان کی پیدائش کی غرض خدا کو ملنا ہے۔تو جب وہ اس کے لئے کوشش کرے گا۔ضرور اس کو مل جائے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔جب بندہ مجھے پکارے گا۔تو میں بھی اسے آواز دوں گا لیکن ملاقات کی شرط یہ ہے کہ بندہ میری اس آواز کی اتباع کرے اور اس کے پیچھے چلے۔تاکہ مجھ تک پہنچ سکے۔بعض دفعہ انسان آواز تو سنتا ہے۔لیکن اس کے پیچھے نہیں چلتا۔اس لئے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا۔اس لئے فرمایا۔آواز کی اتباع کرنا ملاقات کے لئے ضروری ہے۔آگے فرمایا۔فلیو منو ابی لعلهم بر شدون اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی کو مانتا ہو۔کیونکہ خدا کو پہلے مانے گا تبھی پکارے گا۔بلکہ یہ ہے کہ اسے یقین اور توکل ہو کہ میں خدا تک ضرور پہنچ جاؤں گا رشد کے دو معنے ہیں۔ایک استقامت (یعنی نہ گرنے والا مقام) دوم ہدایت جب وہ نہ گرنے والے مقام پر پہنچ جائے گا۔تو اگر اس وقت تمام لوگ بھی مخالف ہو جائیں۔اور سب دکھ دیں۔تب بھی اس کا قدم متزلزل نہ ہو گا۔اور دنیا کی حکومتیں بھی اس کو اس کی جگہ سے ہلانہ سکیں گی۔وہ کبھی یہ نہیں کہے گا کہ فلاں نے میری مدد نہیں کی۔یا فلاں مشکل پیش آئی۔اس لئے میرا قدم لڑکھڑا گیا۔بلکہ ہر قسم کے شدائد کے وقت ثابت قدم رہے گا۔یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔جو خدا تعالٰی نے تم کو رمضان میں دی ہے۔تم کہتے ہو کہ لباس پہننے کے لئے چاہیئے۔روٹی بھوک دور کرنے کے لئے چاہیئے۔مال خرچ کرنے کے لئے چاہیئے۔اسی طرح اور بہت کچھ چاہیئے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ تمہارا مقصد اس خدا کو ملتا ہو۔جس نے یہ سب چیزیں پیدا کی ہیں۔اگر وہ مل جائے۔تو پھر سب کچھ مل گیا۔کون نادان ہے جو چشمے کے بدلے ایک گلاس پانی لینے پر راضی ہو جائے گا اور خزانے کے بدلے چند روپے لینے پسند کرے گا۔پس جب ہر ایک چیز کا چشمہ اور خزانہ خدا تعالیٰ ہے تو کون کم عقل ہو گا۔جو دنیاوی عہدوں اور عزتوں کو خدا اور اس کے رسول کے بدلے لے گا۔پس رمضان کے بدلے خدا ملتا ہے۔تم لوگ خدا کو پانے کی کوشش کرو۔اور وہ اسی طرح کہ اس وقت جب کہ خدا قریب ہوتا ہے۔اسے پکارو۔اور اس کی آواز کی اتباع کرو اور یقین اور توکل رکھو کہ ضرور خدا کو پا لو گے۔ایسا شخص کبھی بھی ناکام نہ ہو گا۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسے خدا نہیں ملا۔اسے ہم کہیں گے۔اس نے ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی۔خدا اپنے قسمی وعدے کو جھوٹا نہیں کر سکتا۔یہی ماننا پڑے گا کہ اس شخص کے کوشش کرنے میں کمی رہی۔