خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 366

366 حاصل ہوتا ہے۔اس کا کچھ حصہ ہی بہاء اللہ کو مل جاتا تو وہ ہرگز نیا روزہ نہ بناتا۔وہ لذت اور سرور ایسا ہوتا ہے کہ انسان نہیں چاہتا کہ میں ساری رات بستر پر لیٹا رہوں۔اور اس لذت سے محروم رہوں وہ اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنی نیند اور آرام قربان کر دے گا حتی کہ مرنا قبول کر لے گا۔لیکن اس لذت کے حاصل کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ایسے روزے میں تبدیلی کرنا اپنے آپ کو روحانیت سے بیگانہ ثابت کرنا ہے۔روزہ کی یہی روح اور یہی جان ہے جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ روزہ کا بدلہ خدا ہوتا ہے۔اور یہی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔واذا سالک عبادی عنی جب میرے بندے سوال کریں کہ ہم نے روزے رکھے۔اور ہم بھوکے پیاسے رہے۔اب بتاؤ خدا کہاں ہے۔تو ان کو کہدو فانی قریب کہ وہ تمہارے روزے رکھنے اور تہجد پڑھنے کی وجہ سے تمہارے قریب ہو چکا ہے اور قریب کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمائی ہے۔کہ وہ رمضان میں مسملہ الدنیا پر آجاتا ہے پس ان دنوں وہ تمہارے قریب آگیا۔تاکہ تمہاری عرض جلدی سے۔جب چاہو۔تم اس سے ملاقات کر سکتے ہو۔آگے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس سے کس طرح ملاقات کر سکتے ہیں۔وہ اس طرح کہ جب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص موجود ہے۔لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے دیکھ نہیں سکتا۔تو وہ آواز دیتا ہے کہ تم کدھر ہو۔اس پر وہ جواب دیتا ہے کہ میں یہاں ہوں۔اسی طرح جب تم خدا تعالیٰ کو پکارو گے اور کہو گے کہ کہاں ہے۔تو اجیب دعوة الداع اذا دعان میں پکارنے والے کی پکار کو قبول کروں گا۔اور جواب دوں گا کہ میں تمہارے روزے رکھنے کی وجہ سے قریب ہی ہوں۔دیکھو اگر تمہارا ایک عزیز بٹالہ بیٹھا ہو۔تو تم یہاں سے اسے آواز نہیں دو گے۔لیکن اگر تمہارا ایک دوست اندھیرے میں بیٹھا ہو۔لیکن تمہیں پتہ نہ ہو کہاں ہے۔تو تم اسے آواز دو گے۔اسی طرح رمضان چونکہ خدا تعالیٰ کو قریب کر دیتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اب مجھے پکارو۔میں پکارنے والے کی پکار کو قبول کروں گا۔نادان کہتے ہیں۔ہماری دعائیں سنی نہیں جاتیں۔حالانکہ خدا تعالی فرماتا ہے۔جو لوگ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔مجھے تلاش کرتے ہیں۔اور میری جستجو میں سرگردان اور پریشان رہتے ہیں۔قسم ہے مجھے اپنی ذات کی کہ وہ ہم کو ضرور پالیتے ہیں چنانچہ دوسری جگہ فرماتا ہے۔والذین جهد وافینا لنهدينهم سبلنا (العنكبوت (۷۰) جو مجھے پانے کی کوشش کرتے ہیں۔میں انہیں ضرور مل جاتا ہوں۔