خطبات محمود (جلد 8) — Page 368
368 مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگ رمضان میں خدا تعالیٰ کو پانے کی اس طرح کوشش نہیں کرتے جس طرح کرنی چاہیئے اور وہ دعاؤں میں نہیں لگ جاتے ورنہ لاکھوں احمدی غوث اور قطب ہو جاتے۔تم میں سے بہتوں نے ابھی تک وہ رنگ اختیار نہیں کیا۔جو خدا تعالیٰ کو پانے والوں کے لئے اختیار کرنا ضروری ہے۔اور نہ اس یقین کو تم نے اپنے دل میں پیدا کیا ہے۔جس سے خدا کی محبت جوش میں آتی ہے اگر تم ایسا رنگ اور ایسا یقین پیدا کر لیتے تو یقیناً تم روحانیت کے بہت اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتے۔اور خدا کے جلال کی بتی جلتی ہوئی دیکھتے۔افسوس کہ تم نے اس نعمت کی قدر نہ کی۔جو تمہارے لئے کھولی گئی اور اس برکت کو حاصل نہ کیا۔جو تمہیں مل سکتی ہے۔ورنہ اس وقت تک کئی تم میں سے اولیاء اور اقطاب ہوتے۔میں سمجھتا ہوں۔آپ لوگ ابھی سوتے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں۔کہ انعام پانے کی کتنی راہیں تمہارے لئے کھل چکی ہیں۔اور کتنے ترقی کے سامان تمہارے لے پیدا ہو چکے ہیں۔تم میں سے بعض صداقت مسیح موعود کے مسئلہ کے ولائل معلوم ہو جانے پر خوش ہو جاتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں۔ہمیں مسیح موعود کی صداقت پر انشراح صدر ہو گیا۔تم میں سے بعض یہی کافی سمجھ لیتے ہیں کہ وفات مسیح کا مسئلہ حل ہو گیا اور کوئی اس میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تم میں سے بعض اسی پر پھولے نہیں سماتے کہ ان کی دعائیں بعض دنیاوی امور میں قبول ہوتی ہیں۔حالانکہ یہ سب اشارے ہیں خدا تعالیٰ کو ملنے کے لئے۔ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی طرف راہ نمائی ہوتی ہے۔یہ انسانی مقصد نہیں۔پھر وہ وقت کب آئے گا جب تم آواز سے خدا کو پکارو گے۔اور وہ کہے گا۔میں تمہارے ملنے کے لئے قریب ہی ہوں۔چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف بڑھو۔تاکہ وہ بھی تمہاری طرف بڑھے۔خدا تعالی کی سنت یہی ہے کہ ادھر سے بندہ بڑھے اور ادھر سے خدا تعالی بڑھے۔خدا تعالیٰ بندہ کی نسبت بہت زیادہ اس کی طرف بڑھتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ بندہ پہلے بڑھے۔کیونکہ خدا کہتا ہے۔میرا جلال اور میری عظمت مطالبہ کرتی ہے کہ تم پہلے میری طرف بڑھو۔اس کے بعد میری شفقت و محبت اور تمہاری کمزوری مطالبہ کرتی ہے کہ میں بھی آؤں۔پس تو ایک قدم آ۔تو میں دو قدم آگے بڑھوں گا۔اور تو چل کر آ۔تو میں دوڑ کر آؤں گا۔پس ہماری جماعت کو چاہئے۔رمضان کی قدر کرے۔اور جان لے کہ دعا ایک آسمانی حربہ ہے۔تمہاری یہ دعا ہونی چاہئے کہ خدا کے عاشق بن جاؤ۔اور خدا سے خدا ہی کو مانگو یہی تمہارا اصل مقصد ہو۔یوں تو تمام چیزیں خدا ہی سے مانگی جاتی ہیں جیسے کہ حدیث میں ہے کہ تسمہ جوتی کا