خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 204

204 ہیں ایک خادم تو معمولی خادم ہوتے ہیں اور ایک ایسے خادم ہوتے ہیں جو اپنے آقا کے دوست بن جاتے ہیں۔تو مسلمان یہ دعا کرتا ہے کہ خدمت کرنے میں ایسے طریق پر چلائے جس پر چلنے سے میں آپ کا دوست بن جاؤں۔اس مقام سے آگے کوئی مقام نہیں۔اب اوپر سے نیچے کیسے جاتا ہے اور وہ کیا مقام ہے۔وہ اسی طرح ہے کہ مغضوب علیہم پہلا قدم نیچے جانے کا ہے یعنی عابد ہونے سے نکل جائے۔عبادت سے نکل جانے والا مغضوب علیہ بنتا ہے جو پہلا قدم اس رستہ کا ہے کہ جو انسان کو نیچے کی طرف لے جاتا ہے۔پس ایاک نعبد کے مقام سے نیچے آجانے کا مقام مغضوب علیہم عبادت میں ستی کرتا ہے۔جو شخص ایاک نعبد کے مقام سے نیچے آجاتا ہے اس کے عقائد تو درست ہوتے ہیں لیکن اعمال میں وہ ستیاں کرتا ہے اس وجہ سے وہ مغضوب علیہم کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔پھر اس کا دوسرا قدم ضالین ہے یعنی ایسی حالت پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کو کچھ پتہ ہی نہیں رہتا کہ اس نے کیا کام کرنا ہے۔گویا وہ مٹ ہی گیا۔ضالین کے معنے ہیں کھوئے گئے مٹ گئے، دین کے لحاظ سے ان کا نام و نشان مٹ گیا۔مغضوب علیہم میں تو پھر بھی کچھ نشان باقی تھا لیکن اس مقام پر پہنچنے سے بالکل مٹ گیا۔مثلاً یہود عبادت کرتے ہیں۔شریعت کو مانتے ہیں۔اب خواہ غلط طریق پر چلتے ہیں لیکن ایک نہ ایک طریق پر چلتے تو ہیں لیکن عیسائی شریعت کو سرے سے ہی لعنت قرار دیتے ہیں۔ان کی کسی بات پر شریعت کا اثر نہیں ہوتا۔پس ظاہر احکام کو چھوڑ دینا اور صحیح طور پر ادا نہ کرنا مغضوب علیہم کہلاتا ہے۔ایک شخص کو اس کا آقا کام کرنے کے لئے کہدے اور وہ آگے کوئی اور کام کرتا رہے اب خواہ وہ کتنا کام کرتا رہے۔لیکن غلط طریق پر چلنے سے وہ آقا کے غضب کا مورد بنتا ہے۔مثلاً ہم کسی کو مبلغ بناویں وہ آگے جا کر سارا دن لڑتا رہے تو اس نے وہ کام تو نہ کیا جس پر ہم نے اسے مقرر کیا تھا۔پس ظاہر میں تو یہودی نظر آئے گا کہ وہ شریعت کی پابندی کرتا ہے لیکن عیسائیوں کے ساتھ اگر کوئی دس ماہ بھی رہے تو وہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس مذہب پر قائم ہیں۔تو پہلا قدم نیچے کرنے کا مغضوب علیہم ہے پس وہ قوم جو عبادت کو پورے طور پر ادا نہیں کرتی وہ مغضوب علیہ ہے چاہے وہ اور کام بڑی اچھی طرح سے کرے۔مثلاً ایک شخص نماز نہیں پڑھتا اور چندہ دیتا ہے تو وہ مغضوب علیہ ہو گا۔نوکر اور خادم کے معنے تو یہ ہیں کہ آقا کی مرضی کے مطابق کام کرے۔اسی طرح عابد کے تو یہ سنے ہیں کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق عبادت کرے اور اس کے احکام پر چلے نہ کہ اپنی مرضی کے مطابق کام کرے اگر وہ خدا کی مرضی کے مطابق عبادت نہیں کرتا تو خواہ وہ ناک رگڑے وہ عابد نہیں کہلا سکتا۔مثلاً ہندو ہیں۔وہ بڑی بڑی سخت عبادات کرتے ہیں لیکن خدا کی مرضی کے مطابق کام