خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 203

203 پہلا قدم ہوتا ہے اس کے نیچے گرنے کا۔اب میں وہ مضمون اور مطلب جو اس سورۃ کے اندر ہے اور جس کی طرف میں نے پہلے اشارہ کیا ہے۔وہ وضاحت سے بیان کرتا ہوں کہ وہ انسان جو اوپر کی طرف جاتا ہے اس کا پہلا قدم ایاک نعبد ہے اور دوسرا قدم ایاک نستعین ہے۔پہلا قدم اوپر کو جانے کے لئے یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا عابد بنے اور اس کی فرمانبرداری کرے یہ پہلا قدم ہوگا اس رستہ پر جو اوپر کی طرف لے جانے والا ہے۔اس سے پہلا قدم ایمانیات ہے جو ایاک نعبد سے پہلی آیات میں بیان ہے مگر عملی حصہ کا پہلا قدم ایاک نعبد سے ہی شروع ہوتا ہے۔عملی حصہ میں سب سے پہلا قدم عبادت اور فرمانبرداری ہے پھر جب انسان خدا کی عبادت کرتا ہے تو اس کا حق ہو جاتا ہے کہ خدا سے کچھ مانگے۔جب خادم بنے گا تب ہی وہ اعانت کا حق دار ہوگا تو ایاک نعبد میں تو خدا تعالی کو انسان کہتا ہے کہ میں آپ کا خادم بنتا ہوں اب خادم بننے کے لئے دنیا سے انقطاع ہوگا اور انقطاع کے بعد سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کو وہ آقا سے مانگتا ہے۔اور آقا کی طرف سے دو طرح کی اعانت ہوتی ہے۔ایک تو خدمت کے لئے خدمت گار کو ہتھیار دیتا ہے۔مثلاً مزدور ہے اس کو ٹوکری وغیرہ سامان دیتا ہے۔اور بدلہ خدمت کا یہ ہوتا ہے کہ اس کی اور اس کے بیوی بچوں کی پرورش کا انتظام کرتا ہے۔اسی طرح مسلمان کا دوسرا قدم استعانت ہے۔پس جب یہ عبودیت کرتا ہے تو یہ مانگتا ہے کہ خدمت اور پرورش کے لئے سامان دیجئے۔پہلے تو یہ کہتے ہے کہ میں آپ کا خادم ہوں آپ کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔اب اگلا رستہ یہ ہے کہ اچھا جی اب بتاؤ میں نے کیا کرنا ہے پوری ہدایت دو کہ میں کیا کروں۔مثلاً پہلے سامان دیتا ہے جب سامان مل جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اب بتاؤ کہ کیا کرنا ہے تو مسلمان جب اهدنا الصراط المستقیم کہتا ہے تو گویا یہ کہتا ہے کہ سامان تو مل گیا اب بتائیے کہ مجھے کیا کرنا چاہئیے۔تو صراط مستقیم جب اسے ملتا ہے تو اسے کام کا پتہ لگ جاتا ہے۔اور استعانت کے بعد اخلاق فاضلہ اور روحانیت حاصل کرتا ہے۔پس نماز روزے وغیرہ تو اس قسم کے دعوے ہیں کہ ہم آگئے ہیں اور وہ چیزیں جو ہمیں پہلے دی گئی ہیں ان کے استعمال کے لئے ذرائع دئے جائیں تو پہلے طاقتیں دی جاتی ہیں پھر فرائض بتائے جاتے ہیں۔اور اس کے بعد چوتھا درجہ انعمت علیہم کا ہے صراط مستقیم کا مطلب تو یہ ہے کہ ایسا رستہ بتایا جائے جو آپ کا منشاء ہو اب منشاء کئی ہوتے ہیں۔ایک منشاء ادنیٰ ہوتا ہے ایک اعلیٰ تو یہ انسان انعمت علیہم کہہ کر یہ دعا کرتا ہے کہ ایسے رستہ پر چلائے جس پر چلنے سے آپ کا اعلیٰ منشاء حاصل ہو جس سے آپ کا دوست بن جاؤں۔کیونکہ دنیا میں دو قسم کے خادم ہوتے