خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 92

92 زمانہ کی لیلتہ القدر تھی۔یہ راتیں بارہا آتی رہی ہیں۔اور امت محمدیہ کے تمام مجددوں کے زمانہ میں آتی رہی ہیں جن میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے رہے ہیں۔لیکن ان مجددوں کے زمانہ میں لیلتہ القدر کا ظہور عظیم نہ ہوا تھا۔جیسا کہ آج مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا ہے۔اس لیلتہ القدر میں ساری دنیا کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بھی مقرر کیا گیا کہ اس زمانہ میں بھی بعض قومیں مٹائی جائیں گی۔بعض بڑھائی جائیں گی۔پس یہ زمانہ اپنے اندر خاص خصوصیت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو بلا استحقاق کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کر دیا۔اور اس طرح اس لیلتہ القدر میں ہونے والے فیصلہ کا بہترین حصہ ہمیں نصیب کیا۔اب اس کے متعلق جو دوسرے انعامات ہیں۔وہ کب ملیں گے۔ان کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے۔ہمیں چاہیے کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کے فوائد دنیا کو دکھائیں۔اپنے نفوس میں تغیر پیدا کریں اور ان صداقتوں کو پھیلائیں جو ہمیں مسیح موعود کے ذریعہ ملی ہیں۔خدا سے دعا کریں کہ ہمیں ان صداقتوں کا وارث بنائے جن کا اس کی طرف سے وعدہ ہے۔یہ بابرکت گھڑیاں ہیں۔رمضان کا بابرکت مہینہ ہے۔جمعہ کو ممتاز کر کے بیان کیا گیا ہے۔اس لئے ہماری جماعت کو چاہیے کہ ان گھڑیوں سے فائدہ اٹھائے۔یہ دن سال میں ایک دفعہ آتا ہے۔پس یہ قبولیت دعا کی گھڑیاں ہیں۔ان سے جہاں تک فائدہ ہو سکے اٹھانا چاہیے۔یہ سال خصوصیت سے ہماری جماعت کے لئے بہت اہم ہے اس سال میں ہماری خطرناک جنگ شروع ہے۔اگرچہ جنگیں تو ہمیں پہلے بھی آئی ہیں مگر ایسی نہیں۔اگر ظاہری حالات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ہمارے گرنے کے دن ہیں مگر جن جماعتوں کی زندگی خدا کے لئے ہو وہ ہلاک نہیں ہوا کرتیں۔پس یہ خطرناک لڑائی کے دن ہیں۔ادھر ہمیں عمائد قوم (مسلمانوں) نے اس وقت چھوڑ دیا۔گو علماء نے ہماری مخالفت کی ہے مگر طبقہ عوام ہمارے ساتھ ہے اور انکی آنکھیں کھل رہی ہیں کہ دین کا کام کرنے والے کون ہیں۔اور یہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کیونکہ یہی طبقہ ہوتا ہے جس کے راہ پانے کی امید ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کی ان حالات نے آنکھیں کھول دی ہیں کہ جو دین کی خدمت کریں۔ان کی قدر کرنی چاہئیے۔یہ احساس ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے۔گلے میں شدید درد کے باعث میں زیادہ نہیں بول سکتا۔یہ اہم مضمون ہے۔مگر ہماری جماعت کے لئے دعا کے مضمون کی اہمیت معلوم کرنے لئے بڑے لمبے چوڑے بیان کی ضرورت نہیں۔تاہم