خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 51

51 زیب سترھویں صدی میں ہوا ہے۔ہندؤوں کو اپنی ہندو حکومتوں کی بھی امداد حاصل ہے۔علاوہ اس کے ہمارے لئے ایک اور مشکل ہے کہ مسلمانوں نے اس کام کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔وہ بجائے جمع کرنے کے اس وقت اس فکر میں ہیں کہ اس کام سے کس کس کو علیحدہ کریں۔چنانچہ لاہور میں ایک انجمن بنی ہے اس میں ایک صاحب نے رائے دی کہ اس انجمن کے وہ لوگ ممبر نہیں ہو سکتے جو دوسروں کو کافر کہیں۔تعجب کی بات ہے کہ اس وقت بھی یہ لوگ اسی فکر میں ہیں کہ کس کس کو نکال دیں۔حالانکہ یہ وقت تھا کہ یہ سوچا جاتا ہے کہ کس کس طرح جمع کر سکتے ہیں ایسی تجویزوں سے سوائے اس کے کہ شقاق بڑھے اور کام کے راستہ میں رکاوٹ پیدا ہو اور طاقت اور خرچ اس طرف بھی صرف ہو اور کیا ہو سکتا ہے۔ہمارے مقابلہ میں مکاری اور فریب اور دھوکے سے بھی کام لیا جا رہا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ حق غالب ہوتا ہے مگر بعض اوقات ایک وقت حق پوشیدہ بھی ہو جایا کرتا ہے۔غرض ہمارے راستہ میں بہت سی ظاہری مشکلات ہیں۔لیکن ان سب مشکلات کے مقابلہ میں ہمارے ساتھ ایک اللہ ہے اور اس کے فضل کو جذب کر کے ہم فتنہ کو دور کر سکتے ہیں۔لیکن خدا کا فضل اندرونی اصلاح سے جذب ہوتا ہے۔جب ایک کام کا فیصلہ ہو جائے۔اس وقت نیت اور ارادہ کو درست کر لیا جائے۔اور پھر پختہ عہد قربانی کا کر لیا جائے پھر باوجود اس کے کہ ہمارے پاس سامان نہیں۔مال و دولت نہیں پھر اللہ کے فضل سے ہم فاتح اور کامیاب ہوں گے۔یہ مت خیال کرو کہ ہم کیا ہیں۔اگر ہم اس بات پر غور کریں تو ایک گھنٹہ میں پاگل ہو جائیں بلکہ ہمیں یہ دیکھنا اور سمجھنا چاہئیے کہ ہم کچھ بھی نہیں۔ہاں خدا کیا ہے اور وہ کیا کر سکتا ہے۔ہمارا خدا مالک ہے۔واسع ہے۔مقلب القلوب ہے۔عزیز ہے۔کوئی ذرہ نہیں جو اس کے قبضہ میں نہ ہو۔رب ہے۔سمیع ہے۔بصیر ہے۔حافظ بھی ہے۔نصیر ہے۔جب ہم ایسے آقا کے غلام ہیں پھر ہمیں گھبراہٹ ہو سکتی ہے؟ دنیا کی حکومتیں اگر ہمیں مٹانا چاہیں تو ہم نہیں مٹ سکتے کیونکہ ہمیں خدا کی نصرت حاصل ہے۔کہتے ہیں کہ دلی کے کسی بزرگ سے ایک بادشاہ ناراض ہو گیا مگر وہ سفر پر جا رہا تھا۔اس نے کہا کہ آکر سزا دوں گا۔جب بادشاہ کی واپسی کا وقت ہوا۔تو مریدوں نے عرض کیا کہ بادشاہ آتا ہے۔آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہنوز دلی دور است۔آخر چلتے چلتے جب بادشاہ کے شہر میں داخلہ کا دن آگیا تو پھر ان سے عرض کیا گیا۔اور انہوں نے یہی کہا کہ ہنوز دلی دور است چنانچہ جب بادشاہ شہر میں داخل ہونے لگا تو دیوار اس پر گر پڑی اور اس کا وہیں خاتمہ ہو گیا۔وہ ایک درویش تھے۔ان کے مقابلہ میں ایک بادشاہ تھا مگر درویش کی مدد پر اللہ تھا۔اسی طرح