خطبات محمود (جلد 8) — Page 50
50 کے مقابلہ میں بھی ایک ایک آدمی نہیں آتا۔ایسی قلیل جماعت کیسے مقابلہ کر سکتی ہے۔علاوہ کثرت کے ان کے حق میں ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ ان لوگوں کا گھر ہے۔ہمارے مبلغ جو جا رہے ہیں وہ کالے کوسوں سے جاتے ہیں۔مقامی حکام کو جو ہمدردی ہو سکتی ہے وہ بھی انہی لوگوں سے ہو سکتی ہے۔وہ رعایت کریں گے تو انہی کی کریں گے اور لحاظ کریں گے تو ان کا۔پس ان حالات میں ایسے لوگوں سے مقابلہ جو ہم سے ہزاروں گنا طاقتور ہیں کوئی معمولی بات نہیں۔پھر جن لوگوں کے لئے گئے ہیں ان میں پہلے سے ہندوانہ رسوم تھیں۔گویا وہ آدھے ہندو تھے اور آدھا رستہ پہلے ہی طے کئے ہوئے تھے۔اب ان کے لئے چند قدم اٹھانے کی بات ہے۔یہ لوگ آہستہ آہستہ اسلام سے دور ہوئے ہیں۔ہندو راجاؤں کے مظالم نے ان کو اسلام سے دور کیا۔یہ وہ قومیں ہیں جو پہلے حملے کے وقت اسلام میں داخل ہوئیں یعنی جب شروع میں ایک ایک مسلمان یہاں اگر پھیلے ہیں اور انہوں نے تبلیغ کی۔اور اس کے اثر سے میوات کے علاقہ میں ہندو لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔بعد میں متعصب ہندو راجاؤں نے ان پر ظلم و جبر کر کے ان کو جبرا " ہندو رسوم کا عادی بنایا ہے۔جیسے پر تھی راج وغیرہ۔دل پر کسی کا جبر نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ اندر سے مسلمان تھے اور ان پر ہندو راجاؤں کی طرف سے ظلم و جبر ہوا۔اس کے زیر اثر انہوں نے ظاہری شکل میں کچھ ہندو پن قبول کر لیا تھا۔پہلے تو محض ظلم و جور کے نتیجہ میں یہ بات تھی۔پھر عادتا ان میں یہ باتیں رائج ہو گئیں۔ادھر مسلمانوں سے یہ غفلت ہوئی کہ گو وہ دل سے مسلمان تھے۔اسلام کی باتیں بھی ان میں تھیں مگر جو رسوم ان میں ہندوانہ جبرا " لائی گئی تھیں۔ان کو دور کرنے اور مٹانے کی کوشش اور فکر نہ کی گئی بلکہ الٹا یہ ہوا کہ چونکہ ان میں علم نہ تھا اس لئے ہندوؤں نے یہ بات ان میں مشہور کرنا شروع کی کہ تم لوگوں کو زبر دستی مسلمان بنایا گیا ہے۔اس دھوکے میں ہزاروں ہندو ہو گئے ہیں اور کچھ بننے کے لئے تیار ہیں۔غرض ہندوؤں کو ہمارے مقابلہ میں چند باتیں حاصل ہیں (۱) وہ زیادہ ہیں ہم کم ہیں (۲) ہم باہر سے جاتے ہیں وہ وہیں کے رہنے والے ہیں (۳) وہاں کے لوگوں سے حکام کو ہمدردی ہے (۴) مال و دولت جو ان کی پشت و پناہ ہے ہمارے پاس نہیں (۵) ملکانہ مسلمانوں کے بعض علاقے ہندو ریاستوں میں ہیں۔ان ریاستوں نے حکومت و ریاست کے فرائض و حقوق کو بھلا کر ایسا ظاہر کیا ہے گویا وہ پنڈتوں کا علاقہ ہے اور شاہی فرائض کو فراموش کر دیا ہے۔اورنگ زیب پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے جبرا اسلام پھیلایا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ اقوام تین سو برس قبل اسلام میں داخل ہو چکی ہیں اور تاریخ کا بیان ہے۔کیا اور نگ زیب کو خدائی حاصل تھی کہ پیدائش سے بھی تین سو برس پہلے اس نے جبرا ان اقوام کو مسلمان بنا لیا تھا۔یہ قومیں ۱۴۶۵ء میں مسلمان ہوئی ہیں اور اورنگ