خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 52

52 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضور دوپہر کے وقت جنگل میں تھے۔درخت کے نیچے سو گئے۔صحابہ بھی ادھر اُدھر سو گئے۔ایک دشمن آیا اس نے آپ کو پہچان لیا اور آپ کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی۔اُتار کر نیام سے نکال لی اور کہا کہ اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے۔تو آپ کے لبوں سے اللہ کا لفظ نکلا۔گویا کہ وہ ایک بجلی کی رو تھی جو اس کے جسم کے ریشہ ریشہ میں داخل ہو گئی اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور پھر آپ نے تلوار اٹھائی اور فرمایا کہ تجھے کون بچا سکتا ہے۔آپ کا منشاء تھا کہ اس نے اب سبق حاصل کر لیا ہے۔ایسا ہی کہے گا۔لیکن اس نے کہا کہ آپ ہی رحم کریں آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔پس اس وقت آپ کو بچانے والی کونسی چیز تھی۔وہ اللہ تھا جس کے قبضہ میں ہر ذرہ ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک مقدمہ تھا۔ہندو مجسٹریٹ تھا۔اس پر ہندوؤں کی طرف سے زور ڈالا گیا کہ کچھ نہ کچھ سزا ضرور دینی چاہئیے۔اس مجسٹریٹ نے وعدہ بھی کر لیا تھا۔اتفاق سے ایک غیر احمدی کو معلوم ہو گیا کہ وہ یہ ارادہ رکھتے ہیں۔گو وہ مخالف تھا مگر اسلام سے محبت کے باعث اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ وہ اطلاع دے دے۔اس نے احمدیوں کو اطلاع دی۔جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کیا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنا آسان ہے۔چنانچہ وہ آپ کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکا۔یہ خدا کی طاقت تھی جس نے آپ کے دشمنوں کو آپ پر غلبہ پانے سے روکا۔اور جس کے ساتھ خدا کی نصرت اور تائید شامل حال ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتا۔لیکن جب انسان ایک کام کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو ایک نیت کرتا ہے اور اس نیت کی ایک علامت بھی ہوتی ہے۔ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے بھی نیت کرنی ہوتی ہے اور اس کی علامت ہے۔اگر ایک بچہ ڈوب گیا ہو اور ایک شخص کنوئیں کے کنارے پر کھڑا ہو اور پھر کہے کہ میری نیت تھی کہ میں اس کو بچاؤں مگر کپڑے نہیں اتارے ہوئے تھے۔اگر اس کے دل میں نیت ہوگی تو وہ فورا کوئی ذریعہ استعمال کرے گا جس سے وہ بچہ ڈوبنے سے بچ جائے۔پس اگر ایک شخص کی نیت کسی کام کرنے کی ہو تو وہ اس کام کے کرنے کے سامان بھی کرتا ہے۔جب تک سامان نہ کرے تو پتہ نہیں لگ سکتا کہ اس کی نیت ہے کہ نہیں اور جتنا بڑا کام ہو اس کے لئے اتنی بڑی قربانی کرتا ہے۔اگر اونی ہو تو ادنی۔جب بڑے دشمن سے مقابلہ پیش ہو تو چھوٹے دشمنوں کی پروا نہیں کی جاتی۔اس وقت زید و بکر کی لڑائیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ وہ بڑے دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہے مگر حالت اس کی یہ ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی ذاتی لڑائیوں کو نہیں چھوڑتا تو کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار