خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 289

289 شریعت نے جو جسمی سزائیں مقرر کی ہیں۔وہ امور سیاسی اور حکومت کے متعلق ہیں۔لیکن دین کا تعلق محض محبت اور تقدیس سے ہے۔دیکھ لو باوجود بادشاہت کے امور روحانیہ کے لئے تلوار کبھی استعمال نہیں ہوئی۔جس سے ثابت ہوا کہ تلوار دین سے نہیں بلکہ سیاست سے تعلق رکھتی ہے۔تو اللہ کی حکومتیں جو روحانی امور کے متعلق نظر آتی ہیں ان کی بناء جبر نہیں۔محبت ہوتی ہے اور سیاسی حکومتیں جبر سے کی جاتی ہیں دینی اور دنیاوی حکومتوں میں یہ نمایاں فرق محبت اور جذبہ محبت کا ہے۔پس اس امتیاز کو جو دینی حکومت محبت کی صورت میں رکھتی ہے۔نظر انداز کرتے ہوئے اس بارے میں بھی جبر کا منتظر رہنا حد درجہ کی غلطی اور ایک دھوکا ہے۔اس میں جو مبتلا ہو۔وہ خدا کی حکومت کو نہیں سمجھتا جو محبت سے قائم ہوتی ہے کیونکہ وہ منتظر ہے کہ خدا کی رضاء حاصل کرنے کے لئے اس پر جبر ہو مگر ایسے شخص کی اطاعت کسی کام کی نہیں خدا کے نبیوں کے انکار کی سزا تلوار نہیں۔ہاں دنیاوی حکومت میں بغاوت کی سزا تلوار ہے۔پس مذہب سزا سے نہیں محبت اور تقدیس سے قائم ہوتا ہے۔محبت وہ پیار جو محبت سے پیدا ہوتا ہے اور تقدیس وہ لگاؤ جو ایک کو دوسرے سے ہوتا ہے۔جب تک کسی میں یہ تڑپ اور یہ لگاؤ نہ ہو اس کی دین میں اطاعت قابل قبول نہیں ہوتی۔تقدیس تقدیس کو کھینچتی ہے۔کوئی شخص کسی کا دوست لگاؤ کے بعد ہوتا ہے اور اس کی محبت میں لگاؤ ہی سے ترقی ہوتی ہے۔جب انسان اپنے اندر خدا سے محبت اور لگاؤ محسوس کرتا ہے تو خدا کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔اور یہی تقدیس ہوتی ہے۔خدا کے معاملات میں کوئی تبھی راستباز سمجھا جا سکتا ہے اور اس کا خدا سے محبت کرنے کا دعوی تبھی خوش کن ہو سکتا ہے کہ خدا اور اس کے رسل اور اس کے خلفاء کی اطاعت ذاتی تقدیس سے کی جائے۔انسان کی ذات محدود ہے اور خدا کی ذات غیر محدود۔جب تک تقدیس نہ ہو تعلق نہیں ہو سکتا اور رسول کریم نے فرمایا ہے کہ جس کے دل میں بشاشت ایمان داخل ہو جائے وہ کسی بھی طرح حق سے نہیں پھرتا۔مگر بہت سے لوگ ایسے غافل ہیں جو اس شیرینی کو چکھ نہیں سکتے۔دینی حکومت میں جو سزائیں ہوتی ہیں۔ان میں انتقام نہیں ہوتا اس لئے جو لوگ اس امر کے منتظر ہوتے ہیں کہ فلاں کام نہ کرنے پر ہمیں کیا سزا مل سکتی ہے اور ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے وہ روحانی محبت سے بے خبر ہوتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص ہوتا ہے۔میں اس بات کو زیادہ تفصیل سے نہیں بیان کر سکتا۔کیونکہ پہلے ہی میں اس سے زیادہ کہہ چکا ہوں۔جتنا بولنا مد نظر تھا۔اور عقلمند کے