خطبات محمود (جلد 8) — Page 288
288 اعمال میں تلوار کے خوف کو ڈھونڈتا ہے وہ خدائی حکومت سے بے خبر ہے۔کیونکہ تلوار سے ماننا خدا کی حکومت میں نہیں خدا کی تلوار چلتی ہے۔مگر وہ مخفی تلوار ہے جس کا ظاہر سے تعلق نہیں۔خدا کی تلوار پوشیدہ ہے۔اسی طرح اللہ تعالٰی کے انبیاء کو لوگ محبت سے مانتے ہیں۔جبر سے نہیں۔مثلاً حضرت ابو بکر صدیق نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کیا تو انہوں نے محبت سے مانا کسی لالچ یا تلوار کے خوف کا اس میں دخل نہ تھا۔وہ صداقت کی محبت تھی۔جس نے حضرت ابو بکر کو کھینچ لیا۔اس کے مقابلہ میں ابو جہل نے انکار کیا۔اس کے سامنے کوئی خوف اور لالچ نہ کام کرتا تھا۔بلکہ وہ سمجھتا تھا کہ میں نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ سلم کو مسل ڈالوں گا اور مسلمانوں پر جو سختیاں ہوتی تھیں۔وہ اس کے ارادہ کی گواہ ہیں۔پس خدا اور اس کے نبیوں کے انکار کی جزا اور سزا پوشیدہ ہے ان کی مخالفت میں جو دکھ اور ماننے سے انعام ہو سکتا ہے۔یہ دونوں پوشیدہ ہیں اور کچی بات یہ ہے کہ جس وقت انبیاء آتے ہیں ان کے ساتھ دوزخ اور بہشت ہوتے ہیں وہ دوزخ اور بہشت ان کا انکار اور ماننا ہوتا ہے اس کی جو تکلیف اور راحت ہے۔وہ پوشیدہ ہے دنیا کے دانا نا ممکن سمجھتے ہیں کہ ان کے انکار سے ہمیں کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے اور یا ان کے ماننے سے کوئی انعام مل سکتا ہے۔پس خدا کی طرف سے انبیاء کی جنت اور جنم پوشیدہ کی جاتی ہیں۔اس لئے ان سے جو تعلق ہوتا ہے۔وہ محض محبت کی بناء پر ہوتا ہے اور انبیاء کے جو قائم مقام ہوتے ہیں۔ان کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔بے شک کوئی کہہ سکتا ہے۔انبیاء کے پاس بھی تو تلوار ہوتی ہے حضرت داؤد کے پاس تلوار تھی۔حضرت سلیمان کے پاس تلوار تھی۔بیشک بعض انبیاء کے پاس تلوار تھی۔لیکن اس کا تعلق امور سیاسیہ سے تھا۔نہ کہ امور ایمانیہ اور روحانیہ سے یہ انبیاء بادشاہ تھے اور ان کو بادشاہت مجبور کرتی تھی کہ تلوار سے بھی کام لیں۔کیونکہ ان کو قیام امن کے لئے دنیاوی سزائیں دینی پڑتی مثلاً ایک شخص چوری کرتا ہے اس کی سزا ہماری شریعت نے قطع ید رکھی ہے۔اس جرم کے مجرم کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے تلوار سے کام لیا گیا ہو۔پس اگر تلوار دی گئی تو اس کا استعمال سیاسی اور انتظامی امور کے متعلق ہو تا تھا۔۔