خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 290

290 لئے تو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔اللہ تعالی آپ لوگوں کو توفیق دے۔تا مذہب کی حقیقت کو آپ لوگ سمجھیں اور جان لیں کہ وہ آپ سے کیا چاہتا ہے اور لفظی بحثوں میں نہ پڑیں۔تاکہ ایمان دل میں داخل ہو۔جب دوسرے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا۔آج میں تین وفات یافتوں کے جنازے پڑھوں گا۔محمد حسین صاحب حوالدار کا جنازہ جو ایک زمانہ میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھتے تھے وہ ایسی جگہ فوت ہوئے ہیں جہاں اور کوئی شخص ان کا جنازہ پڑھنے والا نہ تھا۔دو سرا جنازه سید بشارت احمد صاحب کی والدہ کا ہے جن کی نیکی اور تقویٰ کا اثر باوجود اس کے کہ وہ ایک نواب خاندان سے تھیں۔سب خاندان پر تھا۔اور انہوں نے ان کے مقابلہ میں احمدیت کا وقار قائم رکھا اور وہ بہتوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوئیں۔تیسرا جنازہ ہمارے ایک بھائی احمد کا ہے۔جو کالی کٹ مالا بار میں تھے۔ان کے بھائی محمد کئی دفعہ قادیان آئے ہیں۔وہ بھی آئے تھے۔نیک آدمی تھے۔وہاں ان کا جنازہ پڑھنے والی جماعت معقول تعداد میں نہ تھی۔سب لوگ ان کا جنازہ پڑھیں اور دعا کریں۔الفضل ۱۸ جنوری ۱۹۲۴ء)