خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 484

484 قربانی ضائع نہیں جاتی۔جو خدا کی راہ میں کی جاتی ہے۔مجھے بارہا خیال آتا ہے کہ گورنمنٹ اپنے وفادار اور جاں نثار لوگوں کو مربعے اور جاگیریں دیتی ہے اور وہ ان سے روپیہ کماتے ہیں۔اگر اگر کھانے کے شوقین ہیں۔تو عمدہ سے عمدہ کھانے تیار کراتے ہیں۔لیکن قے کا مرض ہو تو وہ کیا لطف اس کھانے کا اٹھا سکتے ہیں۔یا کپڑے کا شوق ہو اور عمدہ سے عمدہ کپڑے تیار بھی کرالیں۔لیکن اگر جذام یا کھجلی کی بیماری ہو جائے تو کیا فائدہ ہو گا۔یا اگر سواری کا شوق ہے۔اور عمدہ سے عمدہ گھوڑے موجود ہیں۔لیکن اپانچ ہو جائے تو اس کو کیا لطف آئے گا لیکن اگر ایسے لوگ جو اپنی خدمات کو قربانی کی حد تک پہنچا دیتے ہیں اور قربانیاں کرتے ہیں زندہ بھی رہیں تو بھی گورنمنٹ یا کوئی اور ان کو حقیقی بدلہ نہیں دے سکتا۔مگر خدا تعالی کے اختیار میں سب کچھ ہے۔اس لئے اللہ کے لئے جو شخص کام کرتا ہے۔وہ ضائع نہیں ہوتا۔پس جب کہ یہ صورت ہے تو مومن کو چاہیئے کہ اس کی ساری قربانیاں خدا ہی کے لئے ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے انعامات کا سلسلہ اور اس کے صحیح بدلہ کا خاتمہ نہیں ہوتا۔مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔گورنمنٹ بھی بعض قربانی کرنے والوں کو وکٹوریہ کراس دے دیتی ہے۔بیشک یہ ایک عزت اور انعام ہے مگر مرنے کے ساتھ ختم ہو گیا۔اور اس کا کچھ اثر مرنے والے پر نہیں رہ جاتا لیکن خدا کی طرف سے جو انعام مرنے والوں کو ملتا ہے۔وہ غیر منقطع ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ان کی عزت ہمیشہ کرتا ہے۔ان کو حیات ابدی ملتی ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسی ابدی زندگی اور دائی عزت کے لئے کوشش کریں۔اور اس کے لئے وہ اپنے اعمال میں اس نکتہ کو یاد رکھیں جو الحمد للہ رب العالمین میں بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر کوئی فائدہ نہیں اٹھا ہے۔بچپن میں ہم ایک کہانی پڑھا کرتے تھے۔میرے دل پر اس کا بڑا اثر رہتا ہے۔لکھا ہے کہ ایک تھا۔اس کی زمین سے بہت غلہ آتا تھا۔ایک مرتبہ بڑے شوق اور خوشی سے بیٹھا ہوا تھا۔اور چائے پینے لگا تھا کہ نوکر نے آکر کہا۔کھیت میں سور آ گیا ہے۔اس نے چائے کی پیالی رکھ دی اور کہا مخص کہ سور کو مار کر آکر پیوں گا۔مگر سور نے ایسا حملہ کیا کہ وہ مر گیا۔اس لئے یہ ضرب المثل رہ گئی۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں۔کہ خدا اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کریں۔ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں۔خدائے تعالٰی نے ہماری جماعت کو خالی نہیں رکھا۔ہم کو ایسے ملک میں پیدا کیا جہاں قتل اس طرح پر نہیں ہوتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسے ملک میں بھی ہماری جماعت کو پیدا کر دیا۔