خطبات محمود (جلد 8) — Page 485
485 جہاں قتل ہوتے ہیں۔اور اس طرح پر ٹریڈیشن کو قائم کر دیا۔ٹریڈیشن بڑا کام کرتی ہے۔اور اس کا بڑا اثر ہوتا ہے اس سے جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ابتدا مشکلات ہوتی ہیں۔لیکن جو شخص پہلے جاتا ہے۔وہ راستہ کھول دیتا ہے۔اسی طرح ہمارے لئے راستہ کھل گیا ہے۔افغانستان کے بعض دوستوں نے اس راستہ کو کھولا ہے۔انہوں نے خدا کے لئے موت کو آسان کر دیا ہے۔میں نے ابھی کہا ہے کہ خطرناک راستہ میں اگر ایک چل پڑے تو سب چل پڑتے ہیں۔پہلے ہی کے لئے مشکل ہوتا ہے۔اس طرح اس راستہ کو ہمارے دوستوں نے آسان کر دیا ہے۔بعض تقویٰ اور علم کے لحاظ سے کم سمجھے جاتے تھے۔مثلاً نعمت اللہ ایک طالب علم تھا۔اور اسے دراصل وہاں جماعت کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔مگر بعد میں اس کو مبلغ مقرر کر دیا گیا اس نے اپنی جان دے کر ثابت کر دیا کہ خدا کی راہ میں قربانی کرنا اس کے لئے بہت آسان تھا۔اس نے اپنے بھائیوں کے لئے اس راستہ کو جان دے کر کھولا ہے۔تو کیا اب وہ جو اس کے استاد تھے یا جن کے ہاتھ میں اس مدرسہ کا انتظام ہے۔نہیں سوچیں گے کہ جب وہ قربانی کر سکتا ہے تو کیوں ہم قربانی نہیں کر سکتے۔اس کی قربانی نے تو اس مرحلہ کو آسان کر دیا۔اس لئے کہ پچھلوں نے دیکھ لیا کہ خدا کی راہ میں مرنے والوں کی کیا عزت ہوتی ہے۔آج تار آیا ہے کہ اس نے بڑی بہادری سے جان دی۔اس کو اصرار سے کہا گیا کہ تو بہ کر لو۔مگر وہ چٹان کی طرح قائم رہا۔پھر اس کو شہر میں پھرایا گیا۔اور اعلان کیا گیا کہ اسے ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔اور چھاؤنی میں جا کر سنگسار کیا گیا۔اب گورنمنٹ افغان کوئی اور حیلہ تراش نہیں سکتی۔خود اس کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔میں جان دینا ادنیٰ قربانی سمجھتا ہوں۔اعلیٰ درجہ کی قربانی وہ ہے۔جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشارہ کیا ہے۔کر بلائے است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔جب تک جان دے دینے کے لئے تیار نہیں ہو جاتا۔اس لئے پھر یہ ادنی قربانی نہیں ہوتی بلکہ اعلیٰ ہو جاتی ہے۔یہ مقام انہیں لوگوں کو ملتا ہے۔جو اپنے عمل سے دکھا دیں کہ موت ان کی نظر میں حقیر ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو اس اعلیٰ شہادت کے لئے تیار ہونا چاہیئے میرا یہ مطلب نہیں کہ جنہوں نے جان دی ہے۔ان کی قربانی حقیر ہے۔وہ تو بہت بڑی قربانی ہے۔کیونکہ انہوں نے راستہ کو