خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 483

483 میں بھی ربوبیت اگر ساتھ نہ ہو تو آگے ترقی اور بقا نہیں ہو سکتی۔دوسرا ایک زمانہ یہ آتا ہے کہ جب اس میں تغیر ہو کر روح پیدا ہوتی ہے۔اور جو انسانی حالت میں ہوتا ہے۔تیسرا جبکہ روحانیت ہی کا تعلق ہوتا ہے۔پہلا زمانہ ایک نباتی یا حیوانی صورت رکھتا تھا۔دوسرا جبکہ جسم اور روح کا تعلق تھا۔تیسرا جبکہ خالص روح ہو گا۔ان سب میں اس زمانہ کی حسب حال ضروریات ربوبیت ہی پورا کرتی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ کامل حمد کا مستحق خدا ہی ہے نہ کوئی اور۔پس جبکہ ہر زمانہ میں خدا ہی سے تعلق ہے۔تو کسی قربانی کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے کرتے میں نقصان ہو گا۔سب سے بڑی قربانی جان دے دینا ہے۔یا جان دے دینے کے خوف سے مرعوب نہ ہونا۔مگر حقیقت کیا ہے؟ کیا اس قربانی سے ہم نقصان اٹھاتے ہیں۔یا ترقی کرتے ہیں۔خدا کے لئے جان دے کر انسان خدا کے اور قریب ہو جاتا ہے۔پس کوئی زمانہ اور کوئی قربانی ہماری راہ میں روک نہیں۔ایک شاعر کہتا ہے۔۔جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی جان دے دیتا ہے۔مگر اس سے بھی حق ادا نہیں ہو جاتا کیونکہ جان بھی تو اسی کی دی ہوئی ہے۔اگر جسم کو قربان کر دیتا ہے تو بھی روح باقی ہے۔یہ تو ماضی کی بات ہے۔اگر حال مراد لو تو یہ انسان کے اختیار میں کب ہے؟ اس کی موجودہ حالت اور بقا تو خدا کے اختیار میں ہے۔یہ موجودہ زندگی اس کے فضل کے ماتحت ہے۔وہ شامل حال ہو تو زندہ رہے گا۔پس موجودہ حالت بھی انسان کے قبضہ میں نہیں۔اگر مستقبل لو تو جان دیتے ہی ابدی زندگی مل جائے گی اس میں بھی خدا کے احسان کا پہلو غالب ہے۔پس الحمد لله رب العالمین کے لفظ پر اگر غور کریں۔تو تینوں زمانوں کی قربانی کام آتی ہے۔بسا اوقات ڈاکٹر نہایت محبت اور محنت سے ایک شخص کے لئے دوائی بناتا ہے۔اور اس کو خیال ہوتا ہے کہ اس دوائی سے فائدہ ہو گا اور وہ میرے اس احسان و مروت کی قدر کرے گا۔لیکن مریض مرجاتا ہے یا وہ خود مرجاتا ہے۔اور اس طرح اس قدر وقیمت سے محروم رہ جاتا ہے جو وہ اس دوائی کے بدلے میں پانے کی امید رکھتا تھا۔اور وہ محنت کسی نہ کسی طرح ضائع ہو جاتی ہے۔لیکن خدا کی ذات سے صحیح بدلہ ملنا یقینی ہے۔اور کسی صورت میں بھی وہ اخلاص اور محبت سے دی ہوئی