خطبات محمود (جلد 8) — Page 481
481 پہلے پہل جب اس نے چوری کی تھی تو کچھ شک نہیں سوچ کر کی تھی۔وہ جانتا تھا کہ اس سے نقصان ہو گا۔اور اگر پکڑا گیا۔تو سزا اور بدنامی بھی ہوگی۔مگر میلان ایسا تھا اور ضرورت ایسی تھی کہ کسی طرح پوری ہو اور پھر وہ پکڑا نہ گیا۔اس سے اس نے نتیجہ نکال لیا۔کہ ہر چوری ایسی نہیں ہوتی کہ انسان پکڑا جائے۔اور اس چوری سے اس کی ضرورت موجودہ کسی حد تک رفع ہو گئی۔پس اس نے اس سے یہ فیصلہ کر لیا کہ چوری ٹھیک ہے۔جب موقعہ ملا۔ان خیالات نے تحریک کر دی اور اس نے ہاتھ ڈال دیا۔غرض پہلی دفعہ اس نے جو جرأت کی تھی۔تو اس وجہ سے کہ ضرورت ایسی ہی تھی۔اس لئے یہ سمجھ کر کہ گو خدا کا حکم نہیں ہے۔مگر اپنی ضرورت کو مقدم کر کے اس نے وہ فعل کر لیا۔اور اس کے ان نتائج کو دیکھ کر دوبارہ غور کرنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔یہ کیوں ہوتا ہے! اس کی ایک ہی وجہ ہے۔اور اس عمل کے پیچھے ایک ہی خیال ہے کہ اس کے بغیر گزارہ نہیں۔گو یہ بھی ممکن ہے کہ بار بار کے فعل کے بعد یہ سوال ضرورت کا بھی پیدا نہ ہو۔جس قدر بھی بدیاں پیدا ہوتی ہیں۔وہ اسی خیال سے پیدا ہوتی ہیں کہ یہ چیز سب سے زیادہ ضروری ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں کیا ہی عمدہ طریق تمام بدیوں سے بچنے کا بیان کیا ہے۔اور اسی کو مد نظر نہ رکھنے یا نہ سمجھنے کی وجہ سے انسان ان غلط کاریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔وہ طریق اور فیصلہ الحمد للہ رب العالمین کے الفاظ میں ہے۔اس کے معنے ہیں۔تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔رب العالمین یعنی تمام زمانوں کا رب ہے۔انسان کی تمام حالتوں اور وقتوں میں اس کی طرف سے ربوبیت ہوتی ہے۔کوئی زمانہ ہو۔ماضی ہو ، حال ہو، مستقبل ہو۔ہر زمانہ میں وہی رب ہے۔اس نکتہ کے ماتحت تمام تعلقات کو چسپاں کر لو۔کوئی ہستی بھی ظاہری طور پر بھی اور حقیقی طور بھی کامل حمد کی مستحق نہیں۔عام سلوک کے معاملات تو صاف نظر آتے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔مگر دنیا کے تمام رشتوں میں یہ امکان نظر آتا ہے کہ زید مستحق ہے یا بکر۔میاں بی بی شادی کرتے ہیں۔میاں کے ذمہ ہے کہ بیوی کی ضروریات اور اخراجات کا انتظام کرے۔اور اس کی عصمت کی حفاظت کرے۔اور اسی لحاظ سے مرد قابل تعریف سمجھا جاتا ہے۔مگر بارہا ایسا ہوتا ہے کہ مرد بڑھا ہو جاتا ہے۔اور بعض ایسے امراض کا نشانہ بن جاتا ہے کہ حرکت بھی نہیں کر سکتا۔اس حالت میں عورت محنت و مشقت کر کے کماتی اور اس کی خدمت کرتی ہے۔قادیان میں ایک بڑھا ہے۔اور گنٹھیا کی وجہ سے لاچار ہے۔بارہا اس کی بیوی میرے پاس آتی ہے۔کہ اس کی مدد کی جاوے اس سے معلوم ہوا کہ بے شک خاوند محسن ہوتا ہے۔مگر بعض اوقات حالات بدل جاتے