خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 480

480 74 تمام بدیوں سے بچنے کا طریق فرموده ۱۲ ستمبر ۱۹۲۴ء بمقام لندن) شهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : سورہ فاتحہ ایک عجیب نکتہ ہم کو بتاتی ہے۔اور وہ نکتہ ایسا اہم ہے کہ اگر اس کو لوگ نظر کے نیچے رکھیں۔اور اس کی حقیقت کو عملاً نظر انداز نہ کریں۔تو ان کی زندگیوں میں عظیم الشان تغیر پیدا ہو جائے۔میرے نزدیک جس قدر عملی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔وہ اس نکتہ کے نہ سمجھنے اور یاد نہ رکھنے کی وجہ سے ہوتی ہیں میں جہاں تک خیال کرتا ہوں۔جب کبھی انسانی اعمال میں کوئی ایسی بات پیدا ہوتی ہے۔جو منشاء الہی اور تقدیر کے خلاف ہوتی ہے۔تو اس کا موجب یہی ہوتا ہے کہ وہ اس نکتہ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔اور یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میرے لئے اس پر عمل کرنا زیادہ مناسب ہے۔اور وہ بغیر کسی قسم کے پس و پیش کے اس فعل کو کر گذرتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ غور کر لیتا ہے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔اس لئے میں اسے لوں یا نہ لوں۔بلکہ اسے غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔اس کی راہ میں آنے والی چیزیں آپ ہی حل ہو جاتی ہیں۔اور جس قدر اعمال وہ کرتا ہے۔خود بخود ان کا فیصلہ دماغ کرتا چلا جاتا ہے۔البتہ ان امور کے متعلق بے شک سوچتا ہے۔جن کی طرف اسے میلان نہیں ہوتا یا جن کے فوائد اس کی نظر میں ظاہر نہیں ہوتے۔لیکن جن امور کی طرف میلان ہو جاتا ہے۔یا جن کے فوائد اس کی نظر میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔ان کا فیصلہ اتنی جلدی اس کا دماغ کر دیتا ہے۔کہ وہ خود بھی نہیں جانتا کہ اس نے اس کے متعلق سوچا ہے یا نہیں۔مثلاً ایک شخص چوری کرنے کا عادی ہے۔جب اسے موقع ملتا ہے۔فور آ ہاتھ ڈال دیتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ چوری کرنا بری بات ہے۔خدا نے منع کیا ہے۔لوگ برا سمجھتے ہیں۔اور پکڑا جانے پر سزا ہوتی ہے۔مگر باوجود ان تمام باتوں کے جب اسے موقعہ ملتا ہے وہ رکتا نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ