خطبات محمود (جلد 8) — Page 482
482 ہیں۔اور عورت محسن ہو جاتی ہے۔تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ ہستی حمد کی کامل مستحق نہیں ہو سکتی۔جس میں کمزوری کا امکان ساتھ لگا ہوا ہے بلکہ کامل تعریف کی مستحق وہی ہو گی جس میں کبھی اور کسی حال میں بھی کوئی کمزوری واقع نہیں ہوتی۔اسی طرح نوکر کی مثال ہے دنیا عرفاً سمجھتی ہے۔کہ آقا کو نوکر پر فضیلت ہے۔گو میں اب تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ بجز حکم دینے کے کیا فضیلت ہے۔آقا روپیہ دیتا ہے۔نوکر اس کے بدلہ میں کام اور محنت کرتا ہے۔اپنا وقت اور جسم دیتا ہے۔تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نوکر ادنیٰ اور آقا اعلیٰ ہے۔اور اس لئے مستحق تعریف ہے۔مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ چور آتا ہے اور وہ حملہ کرتا ہے۔نوکر اپنے آقا کی جان اور مال کی حفاظت کے لئے لڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔اس وقت لوگ نوکر کی تعریف کرتے ہیں کہ ایسا وفادار ہے کہ اس نے آقا کے لئے لڑ کر جان دے دی اس حالت میں نوکر حمد کا مستحق ہو جاتا ہے۔اسی طرح گورنمنٹ پولیس یا فوج میں نوکر رکھتی ہے۔مگر وہ لڑائی میں مرکر جب جان دے دیتے ہیں۔تو سپاہی قابل تعریف اور قابل عزت ہو جاتے ہیں۔نتیجہ کے لحاظ سے دیکھو۔گورنمنٹ ان کو کیا دیتی ہے۔زیادہ سے زیادہ ان کے بیوی بچوں کو مریعے یا جاگیر دے دی۔مگر اصل مرنے والے کو کیا فائدہ ہوا۔اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔اس لئے بہر حال حمد سپاہی کی ہوگی نہ گورنمنٹ کی۔غرض جس قدر ان معاملات پر غور کریں۔اسی فیصلہ کا امکان رہتا ہے کہ مستحق کون ہے مگر خدا تعالٰی کے معاملات میں یہ امکان نہیں رہتا۔وہاں یہ فیصلہ شدہ امر ہے کہ خدا ہی کی حمد ہے۔اور وہی کامل حمد کا مستحق ہے۔اگر کوئی شخص خدا کے لئے جان دیتا ہے۔تو وہ جان دے کر اس کے فضل کو پہلے سے زیادہ پاتا ہے۔اور اس کے قریب تر ہو جاتا ہے۔آقا دوست بیوی کے لئے کہہ سکتے ہیں کہ تیری خاطر ہم نے جان دی ہے۔مگر خدا کے لئے کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ اس کے فضل کے ہم بہر حال محتاج ہیں اور اس کی ربوبیت ہر حالت میں ہم کو مطلوب ہے وہ رب العالمین ہے۔اور اس کی ربوبیت کا سلسلہ بدستور ہے۔جس کے بغیر ایک لحظہ بھی ہم زندہ نہیں رہ سکتے اور مرنے کے بعد اس کی ویسی ہی ضرورت باقی رہتی ہے۔تین زمانے ہیں ماضی حال اور مستقبل تینوں پر غور کرو کہ ربوبیت کی کیسی ضرورت ہے۔اور بغیر اس کے گزارہ ہی نہیں۔مثلاً انسان بننے سے پیشتر ایک زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ نباتی یا حیوانی حالت ہوتی ہے۔اس حالت