خطبات محمود (جلد 8) — Page 463
463 ا اور مختصر کریں تاکہ سننے والوں کو ملال پیدا نہ ہو۔پس یہ درس عام نہم اور مختصر ہوں وعظ و نصیحت کا رنگ غالب ہو۔لوگوں کی ابتدائی تعلیم کو مد نظر رکھا جائے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کوئی نبی نہیں آتا۔جو ربانی نہیں ہوتا یعنی جو چھوٹے علوم پہلے نہیں پڑھاتا اور بڑے بعد میں۔پس جب نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ چھوٹے علوم پہلے پڑھائے اور بڑے بعد میں۔تو دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیئے۔چونکہ عام درسوں میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو موٹی باتیں سمجھ سکتے ہیں۔اس لئے ایسی باتوں پر ہی زیادہ زور دینا چاہیئے۔یہ لوگ جو انتظام کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔اپنی طرف سے سوچ سمجھ کر کئے گئے ہیں۔اور میرے ذہن میں اس سے بہتر نظام اور کوئی نہیں آیا۔اگر اس سے بہتر کوئی اور انتظام ہو سکتا یا ان لوگوں سے بہتر کام کرنے والے اس وقت نظر آتے تو میں اس انتظام سے بھی بخل نہ کرتا۔اس وقت کی شرط اس لئے لگائی ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ یہی لوگ قابل ہیں۔ہو سکتا ہے کہ جن کو مشیروں میں شامل نہیں کیا گیا۔وہ اپنے اخلاص اور علم میں ان سے بڑھ کر ہوں لیکن اس موقع اور اس کام کے لئے بہتر سمجھ کر میں ان کو مقرر کرتا ہوں۔نظارت کا کام چونکہ انتظامی ہے اور اور رنگ کا ہے اس لئے جماعت کا امیر ناظر اعلیٰ نہیں ہو سکتا۔مولوی شیر علی صاحب چونکہ امیر بنائے گئے ہیں۔جو ناظر اعلیٰ تھے۔اس لئے یہ تجویز ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ناظر اعلیٰ کا کام کریں۔اصل ناظر اعلیٰ تو چوہدری نصر اللہ خان صاحب ہیں۔جو ان دنوں حج کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ان کے آنے تک میر صاحب جو رخصت پر ہیں اور اگر ضرورت ہوئی تو اور رخصت لے سکتے ہیں۔یہ کام کریں۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے نہایت غور اور آپ لوگوں کی بھلائی کے لئے یہ انتظام تجویز کیا ہے۔مولوی شیر علی صاحب نهایت مخلص لوگوں میں سے ہیں۔اور حیا والے آدمی ہیں۔انتظام کے لئے سختی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں وہ ان میں نہیں ہے۔باوجود اس کے میں سمجھتا ہوں۔خلیفہ کی عدم موجودگی میں ایسے ہی آدمی کی ضرورت ہے کہ جو لوگوں کے دلوں کو رکھ سکے۔خلیفہ بطور باپ کے ہوتا ہے اور اگر ایک باپ مر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ روحانی بچوں کو دوسرا باپ دے دیتا ہے لیکن جب باپ ہو مگر موجود نہ ہو تو دل بہت نازک ہوتے ہیں۔اس لئے نرم آدمی کی ہی ضرورت ہے۔مفتی محمد صادق صاحب بھی پرانے مخلصین میں سے ہیں اور سلسلہ کی خدمات میں انہوں نے بہت