خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 462

462 زبانوں پر خدا بول رہا تھا لیکن نائبوں کے لئے یہ نہیں۔اس لئے میں نے تجویز کی ہے کہ مولوی صاحب کے ساتھ دو نائب رکھے جائیں۔جن کے مشورہ سے وہ کام کریں۔وہ دو میں نے مفتی محمد صادق صاحب و میاں بشیر احمد صاحب کو تجویز کیا ہے۔وہ ایسے امور کو کہ جو خلافت سے وابستہ ہوں اور جن میں وہ مجھ سے بذریعہ تار یا خط مشورہ نہ لے سکتے ہوں۔یا ایسے چھوٹے امور کہ جن میں مشورہ کی ضرورت نہ ہو طے کریں گے۔اس کے علاوہ یہ دو نائب ہوں گے۔ایک مجلس شوری بھی تجویز کی گئی ہے۔اس کے ممبر بھی جو قادیان میں رہتے یا باہر سے آتے ہیں۔ان سے مشورہ لیں گے۔اس کے ممبر یہ قرار دیئے گئے ہیں۔مولوی سید سرور شاہ صاحب قاضی امیر حسین صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب ماسٹر عبد المغنی صاحب قاضی عبداللہ صاحب، مولوی فضل دین صاحب ظیفه رشید الدین صاحب، مولوی محمد اسماعیل صاحب، میر قاسم علی صاحب، قاضی اکمل صاحب شیخ محمد یوسف صاحب، ماسٹر عبدالرحمن صاحب ماسٹر عبدالرحمن صاحب پرانے اور مخلصوں میں سے ہیں۔ان کے علاوہ اور لوگ بھی ہیں۔جو ان سے دیرینہ ہیں۔بعض ان سے اخلاص بھی زیادہ رکھتے ہیں۔لیکن بیماری یا ضعف یا اور نقائص کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیا ہے۔دفتری معاملات کے علاوہ جو اور معاملات ہوں اور جن میں مشورہ لے لیا کرتا ہوں۔ان میں ان لوگوں سے مشورہ لے لیا جایا کرے۔لیکن صرف یہی لوگ مشورہ کے لئے مخصوص نہیں جو بھی کسی فن کا ماہر ہو اسلامی طریق یہی ہے کہ اس سے مشورہ لے لیا جائے۔ہو سکتا ہے کئی ایسے امور ہوں جن میں عورتوں سے بھی مشورہ لینے کی ضرورت ہو۔علمی کام کو جاری رکھنے کے لئے یہ تجویز ہے کہ مولوی شیر علی صاحب درس قرآن بھی دیں اور اس درس کے بعد مولوی سید سرور شاہ صاحب بخاری کا درس دیں۔یہ دونوں درس اسی مسجد اقصیٰ میں ہوں۔اور باری باری ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کے دوست اور بیرون جات سے آنے والے دوست ان درسوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔اور درس دینے والوں سے امید ہے کہ وہ درسوں کو ایسے علوم پر مشتمل کریں گے۔جو عام طور پر مفید ہوں گے۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر چاہیں تو ان کو درسوں میں شامل کر سکتے ہیں۔مگر عام لوگ انہیں سمجھ نہیں سکتے۔اس وجہ سے میں دونوں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے امور پر اپنے درس مشتمل کریں جنہیں عام لوگ سمجھ