خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 464

464 حصہ لیا ہے۔حضرت مسیح موعود کو ان سے خصوصیت سے محبت تھی۔وہ حضرت مسیح موعود کے ایسے خدام میں سے تھے جو ناز بھی کر لیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے انہیں تبلیغ کی خدمتوں کا موقع دیا ہے مگر مجھے ان سے انتظامی امور میں تجربہ کا موقع نہیں ملا۔لیکن میں دیانتداری سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ مشورہ دینے اور اپنی عقل و فہم کے ساتھ سلسلہ کی خدمت کرنے میں ایسا حصہ لیں گے جو مبارک ہو گا۔اور ان کی مدد اس کمیٹی کے لئے مفید ثابت ہوگی۔میاں بشیر احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے ایک فخر بخشا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کی اولاد میں سے ہیں۔یہ ایسا فخر ہے کہ انسان کا اس میں اپنا دخل نہیں اور اس میں کسی کو بغض و حسد کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ فخر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی تھی جب پیغامی مجھے پر مسیح موعود کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ناراض ہوا کرتے تھے۔میں سوچا کرتا تھا کیا میں خود حضرت مسیح موعود کے گھر میں پیدا ہو گیا۔اگر میرا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تو پھر بغض کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔اگر میں نے خدا تعالٰی سے درخواست کی ہوتی کہ مجھے وہاں پیدا کیا جائے تو کہہ سکتے تھے کہ اس نے خود کہہ کر اپنے آپ کو مسیح موعود کے ہاں پیدا کر لیا۔اور ہمارے لئے روک بن گیا۔لیکن پیدا ہونا تو میرے اختیار میں نہ تھا۔یہی فخر میاں بشیر احمد صاحب کو حاصل ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔دنیا میں دو قسم کے فخر ہوتے ہیں۔ایک اوپر سے۔نیچے کی طرف آتے ہیں اور ایک نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہیں۔بعض لوگوں کو تو اس بات پر فخر ہوتا ہے کہ ہم نے فلاں پر احسان کیا لیکن کبھی اس پر بھی فخر کیا جاتا ہے کہ فلاں نے مجھ پر احسان کیا۔جو فخر نیچے سے اوپر کو ہوتا ہے اس کی ذمہ داریاں اور ہوتی ہیں اور جو اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے اس کی ذمہ داریاں اور ہوتی ہیں۔وہ احسان جو نیچے والوں پر کئے جاتے ہیں ان کے متعلق احسان کرنے والا یہ کہتا ہوا اچھا بھی لگتا ہے کہ میں نے یوں کیا۔لیکن وہ نیچے والا جس پر احسان ہوا ہو۔اس کا اس بات پر فخر کیسا کہ مجھ پر فلاں نے یہ احسان کیا۔ایسا فخر بہت بڑی ذمہ داریوں کے نیچے انسان کو لے آتا ہے۔اور ایسے انسان کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو اس فخر کے قابل ثابت کرنے کے لئے ان ذمہ داریوں کو پورا کرے۔میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے جو حضرت مسیح موعود نے اپنی اولاد کے متعلق کی ہیں۔میاں بشیر احمد صاحب کو توفیق دے گا کہ وہ اس فخر کو جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی ذریت میں ہونے کا انہیں بخشا ہے۔جائز ثابت کریں۔