خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 430

430 اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ کہ ہر چیز کے مدارج ہوتے ہیں۔انسانوں نے جس بات کو اپنی فطرت یا استعمال کے ذریعہ یا دنیوی اثرات کے ماتحت سب سے اعلیٰ اظہار ادب و احترام کا طریق قرار دیا۔اسے خدا تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے مخصوص کر لیا۔اور اسے دوسروں کے لئے جائز نہیں رکھا۔خواہ کوئی کسی کو بغیر خدا سمجھے ہی سجدہ کرے جیسا کہ ہندوؤں میں ماں باپ کو کرتے ہیں۔اور اسے پیریں پونا (پاؤں پڑنا) کہتے ہیں۔وہ اس لئے سجدہ نہیں کرتے کہ ماں باپ کو خدا سمجھتے ہیں۔بلکہ انسان ہی سمجھتے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم انتہائی تذلل اور انتہائی احترام تمہارے لئے کرتے ہیں۔اور جب کسی کے لئے ایسا کیا جائے گا۔تو ماننا پڑے گا کہ وہ اور خدا برابر ہو گئے۔کیونکہ دو مختلف مدارج والوں کے لئے ایک جیسا انتہائی تذلل اور ادب نہیں کیا جا سکتا۔اسی وجہ سے خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ اور رکوع کرنے سے روکا گیا ہے۔ورنہ یہ حرکت اپنی ذات میں شرک نہیں۔کسی کو سجدہ کرنے اور اس کے آگے جھکنے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اسے خدا سمجھنے لگ گئے تو رکوع اور سجدہ اپنی ذات میں شرک نہیں۔لیکن انسانوں نے چونکہ اپنی فطرت اور عادت کے مطابق اسے انتہائی تذلل کا طریق قرار دے لیا ہے۔اس لئے خدا تعالٰی نے کسی اور کے لئے اس کے اظہار سے روک دیا۔اس سے ایک بات شرک کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کسی بات کے انتہائی درجہ کو اپنے سوا کسی کے لئے پسند نہیں کرتا۔گویا شرک کی تعریف یہ نکل آئی کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک شرک یہ ہے کہ جس چیز سے خدا کے سوا انتہائی تعلق ہو۔خواہ وہ تعلق احترام کا ہو۔خواہ محبت کا خواہ ادب کا خواہ کسب علم کا خواہ کسی اور بات کے حاصل ہونے کا وہ شرک ہے۔ہر ایک بات کے متعلق خدا تعالٰی یہ چاہتا ہے کہ انتہائی تعلق اسی سے ہو۔اگر وہ یہ نہ چاہتا تو کسی اور کو سجدہ و رکوع کرنے سے نہ روکتا۔اس میں کون سی خدائی آجاتی ہے۔یہ محض ایک رسم ہے۔جو انسانوں نے اختیار کی ہے۔اگر انسان یہ قرار دے لیتے کہ سجدہ اظہار نفرت کا طریق ہوتا۔اور آج سے ہزار دو ہزار سال قبل اظہار نفرت کے لئے اس طریق کو استعمال کیا جاتا۔تو کبھی کسی اور کو سجدہ کرنا منع نہ ہوتا۔اور اگر منع ہوتا تو بطور ایک ناپسندیدہ حرکت کے ہوتا۔بطور شرک کے نہ ہوتا۔کیونکہ بے جا اظہار نفرت سے بھی اسلام روکتا ہے۔تو اس میں شرک کی وجہ انسانوں کی پیدا ہوئی ہے۔انسانوں نے جب اسے انتہائی تذلل اور عبودیت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔تو خدا تعالیٰ نے اپنے سوا کسی اور کے لئے اس کے اظہار سے اس لئے روک دیا کہ جبکہ تم خود تسلیم کرتے ہو کہ یہ