خطبات محمود (جلد 8) — Page 431
431 انتہائی تذلل اور فرمانبرداری کے اظہار کا طریق ہے۔تو اسے صرف خدا کے لئے ہی مخصوص کرو۔کسی اور کے لئے نہیں ہونا چاہیئے۔اس سے یہ نکتہ معلوم ہوا کہ جس بات سے خدا تعالیٰ روکتا ہے۔اور جو شرک ہے۔وہ یہ ہے کہ انتہائی تعلق ہر قسم کا سوائے خدا کے کسی سے نہ ہونا چاہیئے۔خواہ وہ تعلق محبت کا ہو یا عزت کا یا ادب کا یا علم کا مثلا یہی کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مجھے فلاں سے سب سے زیادہ علم مل سکتا ہے یا فلاں سے سب سے زیادہ محبت ہے۔تو یہ اسلامی شریعت کے ماتحت شرک ہے۔اور جس طرح کوئی قوم اگر کسی بات کو انتہائی قرار دے لے۔تو وہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرنے سے شرک ہو جاتی ہے۔اسی طرح فرد بھی اگر کسی بات کو انتہائی قرار دے کر خدا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرے تو شرک ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی رو سے شرک ایک نہایت باریک بات ہے۔کسی چیز کو اتنا اعلیٰ قرار دینا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی اس میں مد نظر نہ رہے شرک ہے۔مثلا" تو کل ہے۔اگر کوئی کہے متفق کہ یونہی کام چل جائے گا۔تو یہ شرک ہے یا یہ کہے کہ یہی ذریعہ کسب علم کا ہے۔اور کوئی نہیں تو یہ بھی شرک ہے۔حتی کہ اگر کوئی مذہبی کتاب پر ہی انحصار رکھتا ہے کہ یہی نجات کے لئے کافی ہے تو بھی مشرک ہے اس لئے کہ کافی محض اللہ ہے وہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے علوم کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔باقی جو علوم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔وہ وقتی ضروریات کے لئے آتے ہیں۔اور وقتی ضروریات پر کھلتے ہیں۔قرآن کریم میں علوم ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں۔مجھ پر الہام کے ذریعہ تسبیح نازل ہوتی ہے۔اگر یہ بھی قرآن کریم میں موجود تھی۔تو علیحدہ الہام کے ذریعہ نازل ہونے کی کیا وجہ تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے علاوہ بھی علوم ہیں۔اور خدا تعالی کے علوم کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ہاں چونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دنیا کے اس آخری دور کے لئے قرآن کریم کو بھیجا گیا ہے۔اس لئے ہم یہ یقین رکھتے ہیں۔کہ ہماری حاجات کے لئے سارے خزانے اس میں بند کر دئے گئے ہیں۔مگر یہ کہنا کہ خدا کا سارا علم اس کے اندر بند ہے۔یہ شرک ہے ہماری روحانی ضروریات کے لئے قرآن کریم میں سب کچھ موجود ہے۔مگر خدا تعالٰی کا علم اتنا ہی نہیں۔جتنا قرآن کریم میں ہے۔بلکہ خدا تعالٰی کا علم وہی ہے جس کے متعلق اس نے فرمایا ہے۔ولا يحيطون شئ من علمه الا بما شاء (البقرہ۔۶۵۲) قرآن کریم میں بما شاء ہے علمہ نہیں کیونکہ خدا تعالٰی فرماتا -