خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 429

429 68 (فرموده ۱۳ جون ۱۹۲۴ء) حقیقی اور کامل توحید مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : ایک مسلمان جس وقت سے مسلمان ہوتا ہے یا جس وقت سے ہوش سنبھالتا ہے۔اسی وقت سے اقرار کرتا ہے یا یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک خدا پر یقین لاتا ہے۔اور ایسی حالت میں یقین لاتا ہے کہ سوائے ایک خدا کے اور کسی کو معبود نہیں سمجھتا۔نہ وہ یہ مانتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور ویسا خدا ہے نہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا کی سی صفات کسی اور وجود میں پائی جا سکتی ہیں نہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے۔جس کی اطاعت اور فرمانبرداری اسے ایسی کرنی چاہیئے جیسی خدا تعالیٰ کی کرنی ضروری ہے اور اگر خدا کی فرمانبرداری کے مقابلہ میں آجائے تو نہیں چھوڑنی چاہیئے۔پھر وہ یہ یقین کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیئے۔یعنی وہ انتہائی تذلل ، انتہائی اطاعت اور انتہائی محبت کو محض خدا تعالیٰ کے لئے مخصوص کرتا ہے۔عبادت کیا ہے؟ اگر ایک شخص کو دیکھ کر کوئی کھڑا ہو جاتا ہے۔اس کا ادب اور احترام کرتا ہے۔اس کے لئے مرکز کی جگہ چھوڑ دیتا ہے۔کھانا یا کوئی اور عمدہ چیز اس کی خاطر کے لئے لاتا ہے یا اس کے ہاتھ دھلاتا ہے۔تو ادب اور احترام کا اظہار کرتا ہے۔اسی طرح سجدہ کیا ہے؟ یہ بھی طریق اظہار ہے ادب و احترام کا۔مگر ایک طریق کو تو ہماری شریعت نے جائز رکھا ہے۔اور دوسرے کیا ناجائز یہ جائز ہے کہ کسی کے استقبال کے لئے جائیں یا کسی کو چھوڑنے کے لئے جائیں۔یہ بھی جائز ہے کہ کسی کے سامنے اپنے ہاتھ سے کھانا رکھیں۔یہ بھی جائز ہے کہ کسی کو صدر میں جگہ دیں۔ان تمام طریقوں سے ہم کسی کا ادب اور احترام کر سکتے ہیں۔اور یہ بیان بھی کر سکتے ہیں کہ ہم آپ کو معزز سمجھتے ہیں، مگر کسی کے لئے ایسی حرکت جو سجدہ یا رکوع کہلاتی ہے۔کرنے سے منع کیا گیا ہے۔