خطبات محمود (جلد 8) — Page 417
417 کی نگہداشت نہ کی جائے۔یہ اخوت اسلامی کے قائم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اور اس سے اخوت اسلامی پیدا ہو سکتی ہے لیکن ہماری جماعت اس میں سست ہے۔اور ان میں آہستہ سلام کہنے یا سلام کا آہستہ جواب دینے کی مرض ہے۔وہ آہستہ سلام کا جواب دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے سلام کا جواب دے دیا۔حالانکہ سلام کہنے والے نے ان کے جواب کو سنا تک نہیں ہوتا اور نہ سننے کی وجہ سے وہ غرض جو سلام کے کہنے میں اخوت اسلامی کے قائم کرنے کی شریعت نے رکھی تھی اور جس کے قیام کے لئے یہ جاری کیا گیا تھا۔مفقود ہو جاتی ہے۔یہ میں جانتا ہوں کہ یہ عادت ہماری جماعت میں ان کی سابقہ صحبت کی وجہ سے پڑی ہوئی ہے۔کیونکہ آج کل مسلمانوں میں سلام کہنا یا اس کا جواب دینا عادت کے طور پر رہ گیا ہے اور اس کی اصل غرض مفقود ہو گئی ہے۔چونکہ بعض اخلاق انسان میں مصاحبت کی وجہ سے آجاتے ہیں اور بعض اخلاق اور عادات انسان میں وراثنا آتے ہیں اس لئے یہ مرض ہماری جماعت میں سابقہ مصاحبت کا ہی نتیجہ ہے جس سے السلام علیکم کی غرض تو مفقود ہو گئی ہے صرف ایک رسم اور عادت رہ گئی ہے۔جس کی وجہ سے لوگ صرف سلام کے جواب میں ہونٹ ہلا دیتے ہیں اور بلند آواز سے سلام نہیں کہتے اور نہ ہی اس کی غرض کی طرف کبھی انہوں نے توجہ کی ہے وراثتا کسی عادت کے پائے جانے کی مثال یہ ہے کہ ایک بچہ ہوء ہو ء سے تو ڈرتا ہے لیکن ڈھول بجانے سے نہیں ڈرتا اور ایک علم طبعیات کا ماہر لکھتا ہے کہ بچے عموما ڈھول سے نہیں ڈرتے۔مگر ہوء ہوء کی آواز سے ڈر جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پہلے زمانہ میں لوگ جنگلوں میں رہتے تھے۔اور شیروں کی آواز سنتے تھے۔تو اس سے خوف زدہ ہوتے تھے۔اس کا اثر اب تک چلا آتا ہے۔اور جب کسی بچہ کے سامنے ہوء ہوء کیا جاتا ہے تو وہ اس خوف کی وجہ سے ڈر جاتا ہے اگرچہ اس کے سامنے شیر تو نہیں ہوتا اور نہ اس نے شیر کی آواز سنی ہوتی ہے پس شیر تو مٹ گیا۔مگر اس کی آواز کا اثر رہ گیا۔اسی طرح سلام کے متعلق ہے کہ غرض تو مٹ گئی ہے۔اور رسم رہ گئی جس کے اظہار کے لئے لوگ صرف ہونٹ ہلا دیتے ہیں۔یہ ہونٹ ہلانے کی مرض احمدیوں میں غیر احمدیوں کی سابقہ مصاحبت کی وجہ سے آئی ہے یہ نہیں کہ یہ لوگ متکبر ہیں اور بلند آواز سے سلام کہنا نہیں چاہتے بلکہ اصل میں یہ ایک حجاب ہے اور کچھ نہیں۔ہمیں اس حجاب کو چھوڑ دینا چاہیئے۔اور سلام کے حکم کی پابندی کرنی چاہئے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو اخوت اسلامی کی ایک ضروری علامت قرار دیا ہے اور اس کو اخوت اسلامی کے لئے ایسا ضروری قرار دیا ہے۔جیسے آپ نے نماز کی صفوں کا