خطبات محمود (جلد 8) — Page 416
416 وعلیکم السلام دیا جائے۔شریعت نے جب السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام رکھا ہے۔تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ السلام علیکم بلند آواز سے کہنا چاہیئے تاکہ دوسرا سنے اور سلام کا جواب دے پس چونکہ آہستہ سلام کہنے سے وہ غرض جس کے لئے شریعت نے سلام کو جاری کیا ہے۔مفقود ہوتی ہے۔اور آہستہ سلام کرنا نہ صرف شریعت کی غرض کو ہی پورا نہیں کرتا۔بلکہ سلام نہ کہنے کے برابر ہے اس لئے تمہیں چاہیئے کہ تم اونچا سلام کہو تاکہ شریعت کی غرض پوری ہو اور اس شکایت کو دور کرو جو آسانی سے دور کی جاسکتی ہے۔کیونکہ جس طرح تمہارے متعلق شکایت کی جاتی ہے۔اسی طرح جب میرے متعلق متواتر مجھ کو شکایت پہنچی کہ میں لوگوں کے سلام کا جواب نہیں دیتا۔تو میں نے کوشش شروع کی کہ میں سلام کا جواب اتنی اونچی آواز سے دوں کہ سلام کرنے والا وعلیکم السلام سن لے اور سلام کا جواب نہ دینے کی شکایت نہ کرے میں نے آواز کو اونچا کیا اور اب اونچی آواز سے جواب دیتا ہوں۔میں نے چونکہ یہ تبدیلی جلدی کر لی اور آہستہ جواب دینے کی عادت کو چھوڑ دیا ہے۔اس لئے میں اس تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ وہ لوگ جن کو آہستہ سلام کا جواب دینے کی عادت ہو۔جلدی اس عادت کو چھوڑ سکتے ہیں۔اور وہ جلدی عادی ہو سکتے ہیں کہ سلام کا جواب اونچی آواز سے دیں پس تم اونچی آواز سے سلام کا جواب دو اور اس آہستہ جواب دینے کی عادت کو چھوڑ دو۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی علامتوں میں سے ایک سلام کے کہنے کو بھی قرار دیا ہے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔مسلم علی من عرفت ومن لم تعرف اے یعنی سب کو سلام کہنا چاہئے۔خواہ واقف ہو یا نہ ہو۔چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب یہ سنا۔تو انہوں نے عیسائیوں۔یہودیوں اور دیگر مذاہب والوں کو بھی سلام کہنا شروع کر دیا۔اس پر کسی نے کسی صحابی پر اعتراض کیا کہ آپ غیر مسلموں کو کیوں سلام کہتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے۔سلم على من عرفت ومن لم تعرف کہ تو جس سے ملے۔خواہ وہ واقف ہو یا نہ ہو۔سلام کہو۔اس لئے ہم جس سے واقف نہیں ہوتے۔اور نہیں جانتے کہ اس کا کیا مذہب ہے۔اسے بھی کہہ دیتے ہیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے بعد صحابہ میں سلام اس حد تک جاری ہو گیا کہ حدیث میں آتا ہے ایک صحابی عصر کے وقت صرف سلام کرنے کی خاطر بازار جایا کرتے تھے۔کوئی سودا وغیرہ لینا ان کا مقصد نہ ہوتا تھا۔صرف سلام کی غرض سے بازار جاتے تھے ۲۔اس سے معلوم ہوا کہ سلام کہنا کوئی چھوٹی سی نیکی نہیں جسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے۔اور اس