خطبات محمود (جلد 8) — Page 33
33 میں تحریک کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اب کئی گھبرا کر لکھ رہے ہیں کہ ہماری عورتیں غیر احمدی ہیں ہم کیا کریں۔میں کہتا ہوں کہ یہ تمہاری ستی کا خمیازہ ہے کیوں تم نے ان کو احمدی نہیں کیا۔اور جب تم نے اس قدر ستی دکھائی ہے تو یہی وقت ہے کہ تمہیں چوٹ لگے اور تم محسوس کرو کہ تم سے کس قدر کوتاہی ہوئی ہے۔پھر یہ بھی ایمان کی علامت ہے کہ کئی لوگ لکھ رہے ہیں کہ آپ دعا فرمائیں میری بیوی چندہ دینے میں کمزوری نہ دکھائے۔کہتے ہیں کسی مولوی نے عورتوں میں چندہ کی تحریک کی۔اس کی اپنی بیوی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔وہ بھی ایک بالی دے آئی۔جب وہ گھر آیا اور معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے بھی بالی دی ہے تو کہنے لگا تم نے کیوں دی؟ یہ تحریک تو اوروں کے لئے تھی نہ کہ اپنے گھر کے لئے۔لیکن ہماری جماعت کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں۔دعا کی جائے کہ ان کی عورتیں چندہ دینے میں کوتاہی نہ کریں۔پھر بعض لکھ رہے ہیں کہ وفات یافتہ بیوی کی طرف سے چندہ دینے کی اجازت دی جائے۔غرض یہ ایسا نظارہ ہے کہ جو اپنی نظیر نہیں رکھتا اور جس کا نمونہ صحابہ کے زمانہ میں ہی پایا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے لئے جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو ہماری جماعت دریغ نہ کرے گی۔دوستوں کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے جلدی اس ثواب کو حاصل کرنے کی عورتوں کو تحریک کریں کیونکہ اگر اس وقت مسجد بننے لگے۔تو اس رقم میں بن سکتی ہے ورنہ بعد میں ممکن ہے کہ دس لاکھ میں بھی نہ بن سکے۔پس مردوں کو چاہیے کہ تحریک میں جلدی کریں اور عورتیں چندے دینے میں جلدی کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان کو پورا کرنے کی توفیق دے اور ہدایت پر قائم رکھے۔الفضل ۸ مارچ ۱۹۳۳ء)