خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 34

34 7 فتنہ شدھی کے لئے احمدی سرفروشوں کی ضرورت (فرموده ۹ / مارچ ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔خطبہ کے شروع کرنے سے پہلے یا اصل خطبہ سے پہلے میں پچھلے جمعہ کے خطبہ کی تکمیل کے طور پر ایک بات سنانا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ وہ فضل جو برلن مسجد کی تحریک کے ذریعہ خدا کی طرف سے ہوا ہے اس کے ذریعہ 9 اور آدمیوں نے بیعت کی ہے۔یہ ایک گھر کا گھر ہے۔جو احمدی ہوا ہے واقعہ یہ ہے کہ ہمارے خان صاحب منشی فرزند علی صاحب اس چندے کے دورے کے لئے نکلے۔ایک غیر احمدی خاندان کہ جس کے نو ممبر ہیں وہ بھی چندہ لایا۔ان کو کہا گیا کہ اس چندہ میں تو صرف احمدی ہی شامل ہو سکتے ہیں۔ان کو تبلیغ تو پہلے ہی سے ہو چکی تھی لیکن وہ رکے ہوئے تھے۔اب اس موقع پر جب ان کو یہ کہا گیا تو وہ سارے کا سارا گھر احمدی ہو گیا۔یہ کیا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نمونہ ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چندہ کی خاطر احمدیت کو چھوڑتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ معاملہ ہے کہ ہمیں چندہ بھی ملتا ہے اور آدمی بھی ملتے ہیں۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔بن مانگے موتی میں مانگے ملے نہ بھیک ہم غیروں کا چندہ رد کرتے ہیں تو ہمیں آدمی اور روپیہ دونوں ملتے ہیں۔اور ایک وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو مان کر پھر محروم ہو گئے۔اس کے بعد اس مضمون کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق پرسوں درس کے موقع پر ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ جمعہ کے موقع پر بیان کروں گا چونکہ یہاں اس وقت بہت ایسے لوگ ہیں جو درس میں شامل نہ تھے۔اکثر دیہات کے احباب ہیں۔بعض یہاں کے ہیں۔جو کسی نہ کسی ضروری کام کی وجہ سے درس میں نہیں آسکے ہونگے۔اور بعض شست بھی ہیں۔اس لئے اختصارا " اس خطبہ کے باعث اور موضوع کو بیان کر کے جماعت کو اس کام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہندوستان میں کچھ جماعتیں ہیں جو نام کی مسلمان ہیں مگر ایمان ان میں رچا نہیں۔وہ جماعتیں