خطبات محمود (جلد 8) — Page 32
32 باپ دادا نے درخت لگائے جن سے ہم نے پھل کھائے۔اب ہم درخت لگاتے ہیں جن سے آئندہ آنے والے پھل کھائیں گے۔بادشاہ نے یہ سن کر کہا زہ یعنی کیا خوب بات کہی ہے۔اور اس کا حکم تھا کہ جس کی بات پر میں زہ کہوں۔اسے چار ہزار روپیہ دینا چاہئیے۔جب بادشاہ نے زہ کہا تو چار ہزار کی تھیلی اسے دے دی گئی۔بڈھے نے تھیلی ہاتھ میں لیکر کہا۔بادشاہ سلامت آپ کہتے تھے کہ تو اس درخت کا پھل کب کھائے گا۔لوگوں کے درخت تو دیر سے پھل دیتے ہیں میرے درخت نے لگاتے لگاتے پھل دے دئے۔بادشاہ نے پھر کہا۔زہ اور خزانچی نے چار ہزار کی اور تھیلی اسے دے دی۔بڑھے نے دوسری تھیلی لے کر کہا۔بادشاہ سلامت لوگوں کے درخت تو سال میں ایک دفعہ پھل دیتے ہیں میرے درخت نے بیٹھے بیٹھے دو دفعہ پھل دے دئے۔بادشاہ نے پھر کہا زہ۔اور تیسری تھیلی اسے دی گئی۔اس پر بادشاہ نے کہا یہ بڑھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔چلو یہاں سے چلیں اور روانہ ہو گیا۔مسجد برلن کے متعلق بھی زہ والی ہی مثال ہے۔لوگوں کی مسجدیں تو اس لئے بنتی ہیں کہ جو ایمان لے آئے ہیں وہ نمازیں پڑھیں۔مگر ہماری مسجدوں کی تحریکوں میں لوگ ایمان لے آتے ہیں۔یہ درخت کا پھل ہے جو بتاتا ہے کہ یہ درخت کسی قسم کی خوبیاں رکھتا ہے۔پھل سے ہی درخت کی خوبی معلوم ہوتی ہے اور اس درخت کے پھل نے بتا دیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ ثمرات رکھتا ہے۔دیکھو جس درخت کو لگاتے ہوئے اس کی جڑ میں گیارہ آدمیوں کے ایمان کا پانی سینچا جائے گا وہ کیسا اعلیٰ ہوگا اور اپنے وقت پر وہ کیسے ثمرات دے گا۔اس کے بعد میں یہاں کی جماعت کے لوگوں کو اور ان کی عورتوں کو اور باہر کی جماعتوں کو اور ان کی عورتوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ ابھی تک بہت سی جماعتوں کے چندے نہیں آئے تازہ تازہ کام کے کرنے میں جو ثواب اور لطف ہوتا ہے وہ بعد میں نہیں ہوتا۔اور سابقون کو جو درجہ حاصل ہوتا ہے۔وہ بعد میں آنے والوں سے بہت اعلیٰ ہوتا ہے۔دیکھو ایک صحابی تو ابوبکر بن گیا اور ایک وہ صحابی ہو گا جو بعد میں ایمان لایا۔اور اس کا کوئی نام نہیں جانتا۔اس کی کیا وجہ ہے یہی کہ ابو بکڑ اس وقت ایمان لایا جب اس کے کان میں آواز پڑی۔اور دوسرے بعد میں ایمان لائے۔تو دیر سے کام کرنے میں بھی ثواب میں کمی ہو جاتی ہے۔یہاں بھی وہ مستورات جنہوں نے چندے نہیں دئے یا ادا نہیں کئے اور باہر کی جماعتوں کی مستورات کو بھی جنہوں نے چندے نہیں لکھائے یا ادا نہیں کئے تحریک کرتا ہوں کہ وقت پر ایک پیسہ جو فائدہ دے سکتا ہے۔بے وقت ہزا رہا روپیہ بھی اتنا فائدہ نہیں دے سکتا۔پس جن بہنوں نے چندے لکھائے ہیں ان کو چاہیے کہ جلدی ادا کریں اور بھائیوں کو چاہیے کہ ان کو تحریک کرتے رہیں۔اگرچہ اس کام میں مردوں کا چندہ نہیں رکھا گیا مگر وہ عورتوں