خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 320

320 دلیل سے دعوئی کا ایک حصہ ثابت ہوتا ہے۔عام طور پر لوگ اس سے صرف یہ استدلال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔آپ پر کبھی اتہام نہیں لگایا گیا۔لہذا ثابت ہوا کہ آپ اپنے دعوئی میں بچے ہیں مگر اس سے آپ کی صداقت ثابت نہیں ہوتی۔کیونکہ طریق استدلال درست نہیں ہے بلکہ اس آیت کے اندر کئی شرطیں ہیں۔جو کسی رسول کے دعوئی کے اثبات کا ایک حصہ بنتی ہیں۔وہ شرطیں کیا ہیں۔اور ان سے کیا ثابت ہوتا ہے۔اول یہ کہ فرمایا فقد لبثت فیکم عمرا اس میں ایک شرط یہ ہے کہ وہ جن لوگوں میں آیا ہو۔ان میں اس نے عمر کا ایک بڑا حصہ گزارا ہو۔لوگ کسی کو پرکھ نہیں سکتے۔جب تک ایک عرصہ تک اس سے واسطہ نہ پڑے۔وہ دیکھ نہ لیں کہ اس کے حالات بدلتے نہیں رہے۔اس نے ہمیشہ صداقت کو پکڑے رکھا ہے۔کبھی صداقت سے ادھر ادھر نہیں ہوا۔جب تک یہ نہ معلوم ہو۔تب تک اس پر اعتماد نہیں ہو سکتا۔پس ہمیں مدعی کی پہلی حالت معلوم ہونی چاہیئے۔جس سے معلوم کر سکیں کہ وہ معظم امور میں ہمیشہ ایک بات پر قائم رہا۔جزوی امور میں اگر اختلاف ہوا ہو تو کوئی بات نہیں اصولی امور میں وہ ایک جگہ پر قائم رہا ہو۔یہ نہ ہو کہ آج وہ ہندو ہے تو کل عیسائی اور پرسوں کسی اور مذہب کا پیرو اگر کوئی ایسا شخص ہو تو اسے ہم اوتار اور نبی نہیں مان سکتے۔ہاں مولوی اور عالم ہو سکتا ہے کیونکہ مولوی اور عالم دلیل سے جہاں ٹھو کر کھاتے ہیں۔اور سمجھ بھی جاتے ہیں۔اگر کوئی مولوی پچاس مذہب بھی بدلے تو کوئی تعجب نہیں اور عقلی طور پر اس کی اتباع میں حرج نہیں کیونکہ مولوی یا عالم اپنے علم و فکر سے ایک بات کہتا ہے اور وہ اس میں غلطی بھی کر سکتا ہے۔مگر نبی کے علم اور کلام کا ماخذ خدا ہوتا ہے۔ہے۔اس لئے اصولی مسائل میں اس میں اختلاف نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہوتا ہے اسی لئے وہ ٹھوکریں نہیں کھاتا۔یہ بات دیکھنے کے لئے مدعی کی پہلی زندگی کا معلوم ہونا ضروری ہے۔دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ چند دن کے حالات سے صداقت یا عدم صداقت پر بحث نہیں ہو سکتی۔کیونکہ دو دو تین تین سال تک دھوکا لگ سکتا ہے ایک آدمی اس عرصہ میں دھوکہ دینے کا منصوبہ باندھ سکتا ہے۔لیکن ایک لمبا عرصہ پہلے دھوکے کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔اور جب کسی کی ساری عمر سامنے گذری ہو تو معلوم ہو سکتا ہے کہ بچپن میں وہ کیسا تھا۔جوانی میں کیسا رہا۔ادھیڑ عمر میں کیسا ہو۔اگر یہ بات نہ ہو تو امر مشتبہ ہو سکتا ہے۔غرض ضروری ہے کہ ایسے شخص کی ساری زندگی سامنے رہی ہو۔