خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 321

321 یہ ہے کہ اس کی زندگی غیر معروف نہ ہو بلکہ ایسی ہو کہ لوگوں نے اس پر نوٹس لیا ہو کیونکہ عموماً اس تنکیر سے عظمت ظاہر ہوتی ہے یعنی ایسی زندگی ہو کہ کفار اس کی زندگی کی بناء پر پکار اٹھیں کہ کنت فینا مرجوا تجھ سے ہمیں بڑی بڑی امیدیں تھیں۔غرض اس کی زندگی نہایت اہم اور شاندار ہو۔لوگوں کے اس سے معاملات پڑتے رہے ہوں۔اور لوگوں نے ہر حال میں اس کی نیکی اور اعلیٰ زندگی کو مشاہدہ کیا ہو۔پھر جب وہ کہے کہ میں تم میں رہا ہوں میرا بچپن۔میری جوانی اور میری ادھیڑ عمر تم نے دیکھی ہے۔پھر وہ ضرور قابل توجہ ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ "من قبلہ اس میں ایک اور شرط پائی جاتی ہے کہ اس کی نیکی اور متقیانہ زندگی دعوئی سے پہلے پائی جاتی ہو۔جب دعویٰ کرتا ہے۔تو لا محالہ دعوی کے مطابق یہ تکلف بھی بننا پڑتا یہ چار نشان ہیں جو ایک مدعی میں ہونے چاہیئیں۔اور یہ اس آیت میں بیان ہوئے ہیں۔اول یہ کہ وہ شخص اپنی قوم میں زندگی بسر کرے (۲) لمبی زندگی بسر کرے۔(۳) دعوئی سے پہلے کی عمر کا حصہ اس شان سے گزارا ہو کہ اس پر لوگوں کی توجہ پڑتی ہو اور اس کے متعلق لوگوں کا یہ خیال ہو کہ اس کی زندگی بڑی ہو نہار اور فائدہ بخش زندگی ہے۔(۴) کہ وہ زندگی دعوی سے قبل کی ہو۔یہ چار شرطیں ہیں۔جو اس آیت کے ماتحت کسی مدعی میں پائی جانی ضروری ہیں۔اور ان کے بغیر اس کا دعویٰ کوڑی کی قیمت کا بھی نہیں ہوتا۔سال دو سال تین یا چار سال کی عمر سند نہیں ہو سکتی۔اتنے اتنے عرصے میں لوگوں دھوکہ دے سکتے ہیں۔ہاں بچپن میں منصوبہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے بچپن کی حالت ہو۔پھر جوانی میں دیکھا ہو۔ادھیڑ عمر میں لوگوں کے سامنے رہا ہو۔ایسا شخص اگر کے کہ تم میری عمر پر اعتراض تو کرو تو وہ حق بجانب ہو سکتا ہے نہ کہ ایسا شخص جو چند سال کسی جگہ گزارے اور اس کی زندگی نمایاں زندگی نہ ہو وہ یہ دعوی کر بیٹھے کہ میرے اس حصہ عمر پر کوئی اعتراض تو کرو۔یہاں سے ایک شخص مرتد ہو کر لاہور گیا۔اس نے کہا کہ اے قادیان والو! میری زندگی پر کوئی اعتراض کرو اور اس نے یہ آیت پیش کی۔اگر ہر ایک شخص اس دلیل کو اس لئے پیش کر سکتا ہے کہ اس کی چند سالہ زندگی کے عیب کسی کو معلوم نہیں تو قادیان کے پنڈورے کے کئی چوڑھے اور سانسی بھی اٹھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زندگی پر کوئی عیب تو دکھا۔ہم لوگ جو ان کے حالات سے واقف نہیں ہیں ان کو کیا کہہ سکتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ اس آیت کی رو سے یہ ضروری ہے کہ مدعی نے دعوے سے پہلے اس شان سے زندگی بسر کی ہو کہ ہر ملت کے لوگ اس کے