خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 319

319 معلوم ہو گا کہ جس آواز کو اس نے سنا ہے۔وہ واقعی آواز تھی۔یا محض اس کے کان بجے تھے۔اس کے کرنے کے لئے یہ علامت ہے کہ جو بات خدا کی طرف سے ہو اس کے ساتھ نشان بھی ہوتے ہیں۔مثلاً مجھے آواز آئے "محمود" جب میں اس آواز پر مڑ کر دیکھوں اور کسی کو نہ پاؤں تب میں یہی سمجھوں گا کہ یہ آواز نہ تھی۔بلکہ محض میرے کانوں کی غلطی تھی۔مگر جب مجھے محمود کی آواز آئے اور میں پیچھے مڑ کر دیکھوں کہ ایک شخص دوڑتا ہوا میری طرف آبھی رہا ہے۔تب میں یہی کہوں گا کہ یہ میرے کانوں کی غلطی نہ تھی۔واقعی اس آدمی نے مجھے بلایا تھا۔پس جب کسی کو کوئی آواز آتی ہے اور اس آواز کے مطابق نصرت بھی ہوتی ہے۔تو وہ آواز دماغ کی کمزوری کا نتیجہ نہیں ہو گی۔اب غور کر لو کہ ایک دلیل کے ساتھ کس قدر دلائل نے مل کر خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دیا ہے اگر دلیل کے ایک حصہ پر ہی اکتفا کر لیا جائے۔اور باقی نہ لئے جائیں۔تو مطلب ثابت نہیں ہوتا۔یہ میں نے ایک مثال خدا کی ہستی کی دلیل کے متعلق بتائی ہے۔اب میں حضرت صاحب کے دعوئی کے ثبوت میں یا ہر ایک رسول کے دعوئی کے ثبوت میں۔ایک دلیل بیان کرتا ہوں۔اور میں بتاؤں گا کہ کس طرح قدم قدم صداقت ثابت ہوتی ہے اور ایک درجہ سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے درجہ میں جا کر بات صاف ہوتی ہے۔مثلاً حدیث میں آیا تھا اور قرآن شریف سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو اس زمانہ میں آجانا چاہیئے مگر اس سے حضرت مرزا صاحب کا سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔یا مثلاً چاند اور سورج کو گرہن لگ گیا اور یہ مسیح موعود کی آمد کی نشانی ہے۔مگر محض اس سے ثابت نہیں کہ حضرت مرزا صاحب مسیح یا مهدی ہیں بلکہ کچھ اور دلائل ہیں جن کے ملنے سے یہ بات ثابت ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی شخص صرف چاند اور سورج کے گرہن سے ہی خیال کرے کہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہو گئی اور اسی دلیل سے چاہے کہ کسی کو صداقت مسیح موعود کا قائل کرلے تو وہ ٹھوکر کھائے گا اس لئے میں ایک موٹی دلیل صداقت کی پیش کرتا ہوں اور یہ بھی بتاؤں گا کہ اس دلیل سے کس طرح صداقت ثابت ہوتی ہے۔اور وہ یہ ہے فرمایا که فقد لبثت فيكم عمرا من قبله اللا تعقلون (یونس ۱۷) یہ دلیل ہے جو قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دی گئی ہے۔اس کے متعلق ہم دیکھنا یہ چاہتے ہیں کہ کہاں تک صداقت کے معلوم کرنے میں مدد دیتی ہے۔عام طور پر لوگ خیال کیا کرتے ہیں کہ اس سے سب دعاوی کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے حالانکہ بات یہ نہیں۔بلکہ اس