خطبات محمود (جلد 8) — Page 287
287 اس کے اس فعل سے اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور حضرت مسیح پر کوئی شخص اس لئے ایمان نہیں لاتا کہ ان کو ماننے سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی شخص کھڑا ہو کر کہے کہ یہ مسیحیت کی تعلیم کے لالچ کا اثر ہے تو اس کو کہا جائے گا کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے کیونکہ کوئی عیسائی کوئی ہندو اور کوئی اور مذہب والا لالچ اور خوف کے سبب سے ان مذاہب کو قبول نہیں کرتا کیونکہ مرنے کے بعد دوزخ اور جنت کا لالچ دنیا میں موجب اعمال نہیں ہوتا۔اور محض لوگ اس خیال سے کہ ہمیں دوزخ یا جنت میں جانا ہو گا۔نیک نہیں ہو جاتے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بات کا اثر نہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں مذہب کی قبولیت کا ابتدائی ذریعہ نہیں ہیں۔مذہب قبول ہونے کے لئے پہلا ذریعہ یہ ہے کہ خدا ہے اور ہمیں اس سے تعلق پیدا کرنا ہے محض لالچ اور خوف سے لوگ نیک اعمال کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔دیکھ لو ایک شخص جو جنات کے وجود کا قائل نہیں اس کو اگر کہا جائے کہ تم اس رستہ نہ جاؤ۔وہاں جن رہتا ہے جس کے دس سر ہیں۔اور پچاس ہاتھ ہیں اور انگاروں سی آنکھیں ہیں۔تو وہ اس سے کچھ بھی خوف زدہ نہ ہو گا مگر بر خلاف اس کے جو شخص جنات کا قائل ہو۔اس کو اگر دس سر کی بجائے دوسر اور پچاس کی بجائے پانچ ہاتھ بتاؤ تو بھی خوف زدہ ہو جائے گا۔پس مسلمانوں میں گو دوسرے مذاہب کی دیکھا دیکھی جو جہنم کے متعلق یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ جہنم کی سزا ابدی ہو گی اور اس سے کبھی نجات نہ ہو گی۔حالانکہ قرآن اور حدیث میں اس تعلیم کا کچھ بھی اثر نہیں باوجود اس کے اس جہنم اور اس نقشہ کی بہشت کا جو مسلمان واعظ پیش کیا کرتے ہیں۔مسلمانوں کے اعمال پر کچھ بھی اثر نہیں۔کیونکہ خالی خیال سے اعمال پر اثر نہیں ہو سکتا۔جب تک خیال وثوق سے نہ بدل جائے اور جب وثوق پیدا ہوتا ہے تو عمل کرنے والے لالچ اور خوف سے نہیں بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اعمال یقین سے کرتے ہیں۔پس خدا کی اطاعت محبت سے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ خدا نے سزا کو پوشیدہ رکھا ہے۔لیکن جس کی غرض ڈرا کر کوئی کام کرانا ہو۔وہ سزا کو پوشیدہ نہیں رکھتا۔بلکہ ظاہر میں دیتا ہے۔خدا کا جنت اور دوزخ کو پوشیدہ کرنا اس لئے نہیں کہ وہ چاہتا ہے کہ اس سے لوگ ادھر آئیں بلکہ اس لئے کیا ہے کہ لوگوں میں تقدیس پیدا ہو۔پس آسمانی حکومتیں محبت سے پیدا ہوتی ہیں خدا کے مظاہر یعنی انبیاء اور ان کے مظاہر یعنی خلفاء اور مجددین کی حکومت کا تعلق محبت سے ہوتا ہے پھر یہ اعمال سے ظاہر ہوتی ہے اور جو شخص۔