خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 286

286 49 فرموده ۱۱ جنوری ۱۹۲۴ء محبت اور جبر کی حکومتیں مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا آج نماز کے وقت میں دیر ہو گئی ہے۔اس لئے میں مختصراً بعض باتیں بیان کرتا ہوں۔حکومتیں دنیا میں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک حکومت محبت کے ذریعے سے اور ایک جبر کے ذریعہ سے قائم ہوتی ہے۔جو حکومت جبر کے ذریعہ ہوتی ہے۔وہ ظاہری حکومت ہے اور جو حکومت محبت سے قائم ہوتی ہے وہ خدا کی حکومت ہے۔لوگ کہتے ہیں۔اصل تعلیم وہ ہے جو دل سے قبول ہو۔نہ کہ خوف سے اور اس وجہ سے وہ اس تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے جزا اور سزا لالچ اور خوف دلانے کے لئے رکھی ہے گو ہم اس کے جواب میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ معترضین کے مذاہب میں بھی یہ باتیں ہیں۔اس لئے یہ اعتراض لغو ہے۔بہت ہیں جو دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ بات ہمارے مذہب میں بھی پائی جاتی ہے۔تو یہ اعتراض باطل ہے۔کیونکہ دیگر مذاہب میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔لیکن ایسا نہ ہوتا تو بھی ہمیں اسلام کی حالت قابل ندامت نظر نہ آتی۔اگر دوسرے مذاہب میں یہ بات نہ ہوتی۔تو اسلام اور روشن نظر آتا کہ جو بات کسی مذہب نے پیش نہیں کی تھی۔وہ اس نے پیش کی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مذہب کو جنت اور دوزخ کے خیال سے قبول نہیں کرتے۔بلکہ مذہب کو اس کی صداقت کے خیال سے قبول کرتے ہیں۔کیا کبھی کسی شخص نے ہندو مذہب اس لئے ترک کیا ہے کہ اس میں چھوٹے چھوٹے گناہوں کی سزا ملتی ہے۔یا کبھی عیسائیت سے لوگ اس لئے دست بردار ہوئے ہیں کہ اس میں جنم کا بہت بھیانک نقشہ کھینچا گیا ہے۔ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ایک شخص اگر ساری عمر بدی کرتا رہے اور مرتے ہوئے کنواں تالاب یا کوئی اور رفاہ عام کا کام کر دے تو