خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 292

۲۹۳ اس لئے اول تو میں مبلغین کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور باقی تمام جماعت کو بھی اس طرف پوری توجہ کرنی چاہیے کیونکہ کام کرنے سے ہوتا ہے اور جب کام شروع نہ ہو گا۔کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔دلائل جاننے سے کچھ نہیں ہوتا۔جب تک عملاً حرکت نہ ہو۔اس لئے ایک تو جماعت کو ادھر توجہ دلاتا ہوں۔اور نہیں تو اس ضلع کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہی وہ ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو۔جہاں جماعت اکٹھی ہوتی ہے۔وہاں اثر ہوتا ہے۔اور منتشر صورت میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔جلسہ کے ایام میں چند ہزار احمدی جمع ہوتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جماعت ہے۔امرتسر میں میرے لیکچر کے وقت چند سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔تو لوگ کہتے تھے بڑا احمدی ہیں۔گو ہم لاکھوں میں ہیں مگر چونکہ مختلف مقامات میں ہیں اس لئے غیروں پر اس کا اثر نہیں پڑتا۔اور احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنا لو اور جب تک ایک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے۔اور نہ اخلاق کی تعلیم ہو سکتی ہے۔نہ پورے طور پر تربیت کی جا سکتی ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مکہ اور حجاز سے مشرکوں کو نکال دو۔ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں۔جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔اگر یہ نہ ہوا تو کام اور مشکل ہو جائے گا۔اگر سو سال میں یہ کام ہونا ہوتا اور ہم پہلے سے شروع کر دیتے تو آج تمہیں چالیس سال سو میں سے نکل چکے ہوتے۔مگر ابھی تک وہ سارا کام اسی طرح ہے اور سو سال میں کوئی کمی نہیں آئی۔تم حرکت کرو۔تو پھر کام ہو جائے گا۔کام کرنے کا طریق یہ ہے کہ کیا جائے۔قادیان اور اس کے دیہات میں ہزار آدمی کے قریب ایسے ہیں جو تبلیغ کر سکتے ہیں۔وہ اگر پندرہ پندرہ روز بھی دیں تو چالیس اکتالیس آدمی ہر روز کام کر سکتے ہیں۔جہاں اتنے آدمی ہر روز کام کریں وہاں کتنا تغیر ہو سکتا ہے اگر مرکزی کام کو چھوڑ دیا جائے اور میں صرف اس کام کو لیکر بیٹھ جاؤں تو انشاء اللہ ایک تغیر عظیم پیدا ہو سکتا ہے۔کیونکہ کام کرنے سے ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود سے ایک شخص نے سوال کیا تھا کہ نماز میں دل نہیں لگتا اور لذت نہیں آتی۔آپ نے فرمایا تھا کہ دل لگاؤ۔۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کام کرنے کا طریق یہ ہے کہ کام کرو۔علم حاصل کرنے کا طریق یہ ہے علم حاصل کرو۔مال کمانے کا طریق یہ ہے مال کماؤ۔خدا سے ملنے کا طریق یہ ہے اس سے ملنے کی کوشش کرو۔جماعت بڑھانے کا طریق یہ ہے کہ جماعت کو بڑھاؤ۔جس کام کو شروع کرد گے وہ شروع ہو جائے گا۔