خطبات محمود (جلد 7) — Page 293
۲۹۳ حضرت مسیح موعود سے پہلے مسلمانوں کا عام خیال تھا کہ اسلام پھیل نہیں سکتا۔مگر جب حضرت صاحب اکیلے تھے اس وقت بھی امریکہ میں مسٹر ویب مسلمان ہوا تھا۔تم بھی اپنے مقتدا کی طرح کھڑے ہو جاؤ۔اور یہیں سے ساری دنیا میں تبلیغ کر سکتے ہو حضرت مسیح موعود انگریزی نہیں جانتے تھے۔مگر دیکھو بغیر انگریزی جاننے کے انگریزی بولنے والے علاقوں میں تبلیغ کرتے تھے۔کیا تم اپنے ضلع میں بھی تبلیغ نہیں کر سکتے۔پس اپنی غفلت کو چھوڑو اور ستی کو ترک کرد۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس جماعت کو قائم کرے۔مگر یہ بھی چاہتا ہے کہ تم کوشش کرو۔جب تک عمل نہیں ہوگا نتیجہ پیدا نہ ہوگا۔خدا تعالیٰ چاہے تو بغیر ماں باپ کے بچہ پیدا کر سکتا ہے۔مگر اس نے یہی چاہا کہ انسان کام کرے۔اور پھر وہ بچہ پیدا کرے۔خدا تعالی تمام دنیا کو مسلمان اور حمدی بنا سکتا ہے مگر وہ اسی طرح چاہتا ہے کہ تمہارے ذریعہ اس کام کو انجام دے اور اسی لئے اس نے حضرت مسیح موعود کو بھیجا۔اس لئے تم خدا کے ارادے کے مطابق ہو جاؤ کیونکہ جب تک تم اپنے آپ کو خدا کے ارادے کے ماتحت نہیں کرو گے اس وقت تک خدا کے انعام کے وارث نہیں ہو سکتے۔چونکہ میرے سر اور گلے میں شدید درد ہے۔اور زیادہ بول نہیں سکتا۔اس لئے میں دوسری بات مختصراً بیان کرتا ہوں۔جو یہ ہے کہ میں نے غور کیا ہے کہ ہمارے لوگ کئی کام بوجہ مشق نہ ہونے کے نہیں کر سکتے بعض دفعہ طالب علم مبلغین جو گو میرے پاس کم آتے ہیں اور یہ بات ضمناً میں نے کہدی ہے۔لیکن جب کبھی آکر تبلیغ کے حالات سناتے ہیں۔تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیان کرنے میں کچے اور بودے ہیں۔جس سے ان میں اعصابی طاقت کم ثابت ہوتی ہے۔بیان کرتے وقت ان میں کپکپاہٹ ہوتی ہے۔اور وہ اپنے مفہوم کو صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتے۔اور اپنی بات کی ترتیب قائم نہیں رکھتے۔اور الفاظ کو اس طرح استعمال نہیں کر سکتے جس سے ان کی تقریر مؤثر ہو۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تربیت نہیں کی گئی۔باتیں سکھائی گئیں ہیں۔عمران سے استعمال نہیں کرائی گئیں۔اسی طرح انگریزی خوانوں کی حالت ہے جب کوئی انگریز آجائے تو گریجوایٹ بھی ترجمانی کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ایسے وقت میں ہمارے انگریزی خوانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ترجمہ کا پیالہ ان سے مل جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح نے کوشش کی تھی کہ موت کا پیالہ ٹل جائے۔اسی طرح ہمارے انگریزی خوان کوشش کرتے ہیں کہ ترجمانی کا پیالہ ان سے مل جائے۔بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں اور وہ کچھ کہتے ہیں۔مشکل یہ ہوتی ہے کہ میں کسی قدر انگریزی جانتا ہوں اور سمجھتا ہوں اس لئے ان کی غلطی سمجھ لیتا ہوں۔جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اگر میں انگریزی نہ جانتا تو مجھے احساس نہ ہوتا۔اس نقص کی وجہ یہ ہے کہ ان کو علم حاصل ہے مگر استعمال نہیں کرتے اگر بولتے رہتے اور تقریریں کرتے تو ان کو یہ دقت پیش نہ آتی۔اس وقت تو