خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 291

53 دو باتیں دعوت الی اللہ کی اہمیت مشق تقریر (فرموده ۲ جون ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں آج کے خطبہ میں مختصراً متفرق ایک دو باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کچھ عرصہ ہوا اسی ممبر پر کھڑے ہو کر آج ہی کے دن آپ لوگوں کو اس امر کی نصیحت کی تھی کہ جماعت کی ترقی اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے ضرورت ہے کہ تبلیغ میں لگے رہو۔اور میں نے اس کام کے لئے تین حلقے بنا کر ان کے تین انچارج مقرر کئے تھے۔میرے اس بیان پر تین مہینہ کے قریب عرصہ گزر گیا ہے اس میں کیا کارروائی ہوئی۔اس کا کیا نتیجہ نکلا۔اس کا مجھے تسلی بخش علم نہیں۔تاہم اپنے علم کی بنا پر اور ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں کیونکہ میں عالم الغیب نہیں جو بات میرے سامنے لائی جاتی ہے اسی کا مجھ کو علم ہوتا ہے۔میرے یہ رائے ہے کہ اس انتظام کے ماتحت کوئی خاص کام نہیں ہوا۔دوسرے حلقوں میں کام شروع ہے اور اس میں کامیابی بھی ہوئی ہے۔اس انتظام کے ماتحت قادیان کے گردو نواح میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ہمارا خیال تھا کہ اس سال میں اس ضلع کے ہر ایک کے کان میں حضرت اقدس کا نام اور آپ کے دعوے کے دلائل پہنچ جائیں اور قلیل عرصہ میں بہت سے لوگ احمدی ہو جائیں گے۔جس طرح پہلے لوگ متفرق طور پر احمدی ہوا کرتے تھے۔اب بھی ہو رہے ہیں۔لیکن اس تحریک کے ماتحت اس عرصہ میں شاید کوئی ایک شخص بھی احمدی نہیں ہوا۔اگر یہی حالت رہی تو یہ سال بھی گذر جائے گا اور پھر سال پر سال گذرتے جائیں گے اور ہمارا کام پورا نہ ہوگا۔کیونکہ جب تک کام شروع نہ کیا جائے۔اس کی انتہا نہیں ہو سکتی۔اور انتہا چھوڑ اس کی ابتدا بھی نہیں ہوتی اگر چلو تو چل پڑو گے۔اور اگر بیٹھے رہو تو بیٹھے ہی رہو گے۔پس اگر اس حال میں سو سال بھی گذر جائے گا تو کام کے لحاظ سے وہ پہلا ہی دن ہو گا۔اور ہمارا کام سو سال پیچھے جا پڑے گا۔