خطبات محمود (جلد 7) — Page 247
تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اس وقت میں کسی پر خدا کا کلام نازل نہیں ہوتا۔نہ یہ کہ کبھی بھی نازل نہیں ہوا۔پہلے کفار اور مشرکوں کا ذکر آرہا ہے۔مشرک تو وحی کے قائل ہی نہیں ہوتے۔یہودی اور منکرین وحی دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔اور قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ ایک ہی فقرہ استعمال کرتا ہے۔جس کے معنی بہت وسیع ہوتے ہیں۔یہاں دونوں کے جواب میں فرمایا ہے جب یہودی وحی کا انکار کرے۔تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ اس زمانہ میں کسی پر خدا کا کلام نازل نہیں ہوتا۔اور جب مشرک کہے تو یہی معنی ہونگے۔کہ کبھی بھی خدا کا کلام کسی انسان پر نازل نہیں ہوا۔یہودیوں کے متعلق تو فرماتا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اس انسان پر خدا کا کلام نازل نہیں ہوا تو یہ بتاؤ موسیٰ پر کتاب کس نے نازل کی تھی۔اس کے جواب میں یہودی یہی کہیں گے کہ خدا نے۔اور یہ کہنے پر وہ پکڑے جاتے ہیں۔کیونکہ اس میں لکھا ہے۔کہ موسیٰ کو کہا گیا تیرے بھائیوں میں سے تیرے جیسا نبی برپا کروں گا۔اگر توریت خدا کا کلام ہے تو ضروری ہے کہ اس زمانہ میں نبی آئے۔اور اگر یہ نبی نہیں تو پھر موسیٰ کی کتاب جھوٹی ہوئی۔کہ اس میں نبی کے آنے کی پیشگوئی ہے۔اس طرح وہ لاجواب ہو جاتے ہیں۔اگر وہ کہیں کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا تو توریت جھوٹی ہوتی ہے۔کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ تیرے بھائیوں سے تیرے جیسا نبی برپا کیا جائے گا۔اور اگر کہیں کہ نبی آسکتا ہے۔اور توریت کچی ہے تو ان کا یہ کہنا غلط ہو جائے گا کہ اب کسی پر خدا کا کلام نازل نہیں ہو سکتا۔اب رہے وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ خدا کبھی بندہ پر اپنا کلام نہیں نازل کرتا۔ان کے متعلق فرمایا ایسے لوگوں کو اور رنگ میں جواب دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وعلمتم ما لم تعلموا انتم ولا أباء كم اس کتاب میں وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو تم اور تمہارے باپ دادے بھی معلوم نہ کر سکتے تھے۔اس میں غیب کی باتیں بیان کی گئیں۔کیا تمہارے باپ دادے یا تم ایسی باتیں بیان کر سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔بلکہ بات یہ ہے کہ تم اور تمہارے باپ دادے ان باتوں کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔اس لئے ثابت ہے کہ یہ بندہ کا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔کیونکہ کوئی بندہ ایسی باتیں نہیں بیان کر سکتا تو فرمایا ان سے کہدے۔صاف جواب یہ ہے کہ خدا نے موسیٰ پر کتاب نازل کی تھی۔جس میں نور اور ہدایت تھی۔اور ایسی باتیں تھیں۔جو کوئی بندہ نہیں بنا سکتا۔اور اب بھی اس نے اپنا کلام بندہ پر اتارا ہے جس کا مقابلہ کوئی انسان نہیں کر سکتا۔قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون انہیں یہ کہہ کر کہ خدا اپنا کلام بندہ پر نازل کرتا ہے چھوڑ دے کہ اپنی بے ہودہ بحثوں میں پڑے کھیلتے رہیں۔وهذا كتب انزلناہ مبارک تم تو یہ کہتے ہو کہ خدا بندہ پر کلام نازل نہیں کرتا حالانکہ یہ ایسی کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے۔