خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 248

یہ اس کی پہلی صفت ہے۔اور دوسری صفت یہ ہے کہ ساری خوبیاں اس کے اندر موجود ہیں۔اگر ا کا کلام نہیں تو کوئی بندہ کی بنائی ہوئی ایسی کتاب پیش کرو جو اس کی طرح بے عیب ہو۔جس خر میں ساری خوبیاں موجود ہوں۔جس میں روجانی ضروریات کی ساری باتیں پائی جائیں۔یہ تو ان منکروں کے لئے دلیل بیان فرمائی جو کہتے ہیں کہ کبھی کلام نازل نہیں ہوتا۔اور جو کلام کا نازل ہونا تو مانتے ہیں مگر کہتے ہیں اب کسی پر کلام نازل نہیں ہوتا ان کے متعلق فرمایا مصدق الذي بين يديه پہلی کتابوں سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اس لئے اگر اسے چھوڑو گے۔تو تسلیم شدہ پہلی کتابوں کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔پہلے جتنے کلام الہی نازل ہو چکے اور جتنے نبی آچکے۔وہ اس نبی کے آنے کی پیشگوئی کرتے رہے ہیں۔اس لئے اگر اس کا انکار کرو گے۔تو اپنے مذہب کا بھی تمہیں انکار کرنے پڑے گا۔کیونکہ اس میں آنے والے کا ذکر موجود ہے۔اور اس کلام کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ولتنذر ام القرى ومن حولها یہ کتاب اس لئے بھیجی گئی ہے تاکہ تو ڈرائے ام القریٰ کو یعنی اس بستی کے ارد گرد رہنے والوں کو جسے ہم ساری دنیا کی ماں بنانے والے ہیں۔چونکہ زمین گول ہے اس لئے ایک مرکز کے ارد گرد میں ساری دنیا شامل ہے کہ ساری دنیا کے لئے یہ کتاب بھیجی گئی ہے۔والذين يؤمنون بالآخرة يومنون به وهم على صلاتهم يحافظون فرماتا ہے اچھا ہم ایک اور دلیل پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ آئندہ کوئی کلام نازل نہ ہو گا جو اس کے خلاف ہو اور جو اس رسول کی تصدیق نہ کرنے والا ہو۔یعنی کوئی نبی کوئی مامور ایسا نہیں ہو سکتا۔جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق نہ کرے۔یہاں یومنون بالآخرۃ سے مراد یوم آخرت نہیں۔بلکہ آخر میں آنے والی وحی مراد ہے۔جیسے پہلے وحی کا ذکر ہے۔اسی طرح یہاں بھی وحی کا ہی ذکر ہے کہ آئندہ جو وحی کا ماننے والا ہو گا۔وہ قرآن کو ماننے والا ہوگا۔قرآن کو مانے بغیر کسی پر وحی آہی نہیں سکتی۔آئندہ وہی الہام اور وحی پائے گا جو اس رسول کا متبع ہو گا۔اور ایسے ہی لوگ اس انعام سے مشرف ہونگے۔اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور اگر اس کے معنی قیامت لیں تو یہ مطلب ہو گا کہ جو قیامت پر ایمان لائے گا۔وہ اس کلام پر بھی ایمان لائے گا۔کیونکہ اسے فکر ہوگی۔کہ اپنے اعمال اچھے رکھے۔اور اعمال کی اصلاح کے لئے قرآن پر ایمان لے آئے گا ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال أوحى الى ولم يوح اليه شي ومن قال سأنزل مثل ما انزل اللہ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو اللہ پر افترا کرے جھوٹا یا کہے کہ اس پر وحی کی گئی حالانکہ کوئی وحی نہ کی گئی ہو۔اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو کے خدا کی طرح کا کلام نازل کروں گا۔پر