خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 246

۲۴۶ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اللہ فرماتا ہے۔لوگوں کا یہ کہنا کہ خدا نے کسی بندہ پر کلام نازل نہیں کیا۔اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے خدا کا اندازہ ٹھیک نہیں لگایا۔یہ تو درست ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کن لوگوں کے خیال کو رد کرنے کے لئے یہ دلیل بیان کی گئی ہے کہ موسیٰ پر بھی کتاب نازل ہوئی تھی اس کے متعلق بتاؤ کہ وہ کس نے نازل کی تھی۔اگر وہ لوگ یہودی تھے۔تو یہ نہیں کہہ سکتے تھے۔کہ خدا بندہ پر کلام نازل نہیں کرتا۔جس طرح کوئی مسلمان نہیں کہہ سکتا۔کہ خدا نے کوئی کتاب نہیں اتاری۔ہاں غیر یہودی یہ کہہ سکتا تھا جو مانتا ہی نہیں کہ خدا کا کلام بندہ پر نازل ہوتا ہے۔لیکن ایسے لوگوں کے لئے یہ دلیل کس طرح مفید ہو سکتی ہے۔کہ موسیٰ پر کتاب نازل ہوئی تھی۔جو خدا کے کلام کا نازل ہونا مانتا نہیں۔وہ حضرت موسی پر کتاب نازل ہونے کو کسی طرح مانے گا مثلاً ایک مجمع ہو۔جس میں حضرت مرزا صاحب کے متعلق تبلیغ کرتے ہوئے کہا جائے کہ آپ پر خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہوئی ہے اور کوئی مسلمان کے کہ وحی نازل نہیں ہو سکتی اور کبھی بندہ پر نازل نہیں ہوتی۔تو اسے ہم کہہ سکتے ہیں قرآن جو نازل ہوا تھا۔پھر وحی کیوں نازل نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر کوئی دہریہ کے کہ وحی نازل نہیں ہو سکتی تو اس کے سامنے قرآن نہیں پیش کیا جا سکتا۔کیونکہ وہ کہدے گا کہ میں تو قرآن کو بھی خدا کی وحی نہیں مانتا۔تو یہاں کن لوگوں نے خدا کا کلام نازل ہونے سے انکار کیا۔یہودی تو یہ کہہ نہیں سکتے کہ خدا کسی بندہ پر کلام نازل نہیں کرتا۔کیونکہ وہ توریت کو خدا کا کلام مانتے ہیں۔اگر یہود نے نہیں کہا کسی اور نے کہا تو وہ تو الہام کو مانتا ہی نہیں۔پھر اس کے سامنے یہ دلیل کیا وقعت رکھتی ہے کہ موسیٰ پر کتاب نازل ہوئی تھی۔وہ تو کہدے گا کہ موسیٰ کی کتاب موسیٰ نے آپ بنائی تھی۔پس یہ دلیل نہیں ہو سکتی۔اس کا جواب یاد رکھو کہ جنہوں نے اس آیت کے صرف یہ معنی کئے ہیں کہ خدا نے کبھی کسی بندہ پر کلام نازل نہیں کیا انہوں نے غلطی کھائی ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کہتے ہیں اس زمانہ میں خدا نے کسی پر کلام نازل نہیں کیا۔گویا وہ کہتے ہیں۔کہ اب اس وقت دنیا میں کوئی علم نہیں ہے۔جیسے مسلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم کے بعد کسی پر وحی نہیں نازل ہو سکتی۔اور وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔یہ خیال ہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ ہر عظیم الشان نبی کے بعد لوگوں نے کہ دینا کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں ذکر ہے۔کہ ان کے بعد لوگوں نے کہ دیا کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اسی طرح حضرت عیسی کے بعد کہا گیا۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی کہا جاتا ہے کہ خدا کا کلام کسی پر نازل نہیں ہو سکتا۔اور کوئی نبی نہیں آسکتا۔