خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 238

۲۳۸ فرماتے ہیں۔کہ جب کسی میں ایمان پیدا ہو جائے تو ایمان کی ادنی بشاشت یہ ہے کہ وہ آگ میں پڑنا تو پسند کرلے گا لیکن ایمان نہیں چھوڑے گا۔یہ ادنی درجہ ہے ایمان کا۔ان لوگوں میں ایمان ہی کہاں ہوتا ہے جو کہتے ہیں خراب ہو جاتا ہے۔وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں کسی کی بات اس لئے نہیں سنتا کہ میرا ایمان خراب ہو جاتا ہے۔وہ گویا خود اقرار کرتا ہے کہ اس میں ایمان نہیں ہے۔ماں باپ سے سن کر اور ساتھیوں کے میل وملاپ کی وجہ سے جو کچھ مانتا ہے۔مانتا ہے۔ورنہ اسے یقین حاصل نہیں ہوتا۔عام طور پر لوگوں کا یہی حال ہے کہ سنی سنائی باتوں کو مانتے ہیں۔اسی لئے ان کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اردو میں مثل ہے سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں۔یہی مثال ان کی ہوتی ہے۔منہ سے جتنا چاہو ان سے اقرار کرالو۔وہ کہنے کو تو کہدیں گے کہ ہم خدا اور رسول اور اسلام پر قربان ہونے کو تیار ہیں۔مگر جب وقت آئے گا تو قربان ہونا تو الگ رہا۔معمولی سی قربانی کرنے کے لئے بھی آمادہ نہ ہونگے۔یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان میں ایمان نہیں ہوتا۔کیونکہ ایمان کی علامت تو یہ ہے کہ خواہ کس قدر بھی مشکلات میں انسان کو ڈال دیا جائے وہ پروا نہیں کرتا۔اور جب تک مشکلات کی بھٹی میں نہ ڈالا جائے۔اس وقت تک ایمان کا پتہ نہیں لگتا۔اس لئے ہمیشہ نبیوں کے ماننے والوں کو ابتلا آتے رہے ہیں۔یہ دو قسم کے ابتلاء ہوتے ہیں۔ایک وہ جو بندہ خود اپنے اوپر اپنی مرضی سے نازل کرتا ہے۔اور دوسرے وہ جو خدا تعالیٰ نازل کرتا ہے۔بندہ کی اپنی مرضی پر جو ابتلا چھوڑے جاتے ہیں۔وہ مثلاً نماز روزہ ہیں۔ان میں سہولت کے سامان انسان کر سکتا ہے۔مگر ایک وہ ابتلا ہوتے ہیں جو خدا کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔بندہ اگر چاہے کہ ان میں سہولت کرلے تو نہیں کر سکتا۔یہ اس لئے آتے ہیں کہ خدا بندہ پر اس کے ایمان کی حالت ظاہر کر دے۔اس لئے نہیں آتے کہ خدا کو انسان کا پتہ نہیں ہوتا۔اور یہ مت خیال کرو کہ کیا بندہ اپنا حال بھی نہیں جانتا۔سب سے بڑی مصیبت یہی ہے کہ لوگ اپنے دل کا حال نہیں جانتے۔اگر یہ بات نہ رہے تو ساری خرابی دور ہو جائے۔اپنے دلوں کے متعلق لوگوں کے غلط خیال ہوتے ہیں۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ عام طور پر بہادر اور دلیر انسان بہت کم ہوتے ہیں۔اور زیادہ ایسے ہوتے ہیں جو خطرات سے ڈرتے ہیں۔لیکن اگر سو آدمی کو بٹھا کر لڑائی کی خبریں سناؤ تو ان میں سے ہر ایک یہی کے گا کہ اگر اس موقع پر ہم ہوتے تو یوں کرتے۔لڑنے والوں نے یہ کمزوری دکھائی۔اور یہ خرابی کی اور یہ یونہی نہیں کہتے۔بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم ہوتے تو اس طرح کرتے۔یہ جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے۔مگر جب موقع پر لا کر کھڑا کر دیا جائے تب انہیں پتہ لگتا ہے کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔اسی طرح انسان کو ہزاروں چیزوں سے محبت ہوتی ہے۔اور ہزاروں سے نفرت۔مگر در حقیقت