خطبات محمود (جلد 7) — Page 239
۲۳۹ اسے نہ ان سے محبت ہوتی ہے جن سے وہ محبت سمجھتا ہے اور نہ ان سے نفرت ہوتی ہے جن سے وہ نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ایک وقت جس چیز سے اسے محبت ہوتی ہے۔دوسرے وقت اسی سے نفرت کرتا ہے۔اور جس سے نفرت ہوتی ہے اس سے محبت جتانے لگتا ہے۔آج ایک شخص اس کی صلح ہوتی ہے۔اور اسے اپنا دوست سمجھتا اور خیال کرتا ہے کہ میں کبھی اسے چھوڑ نہیں سکتا لیکن شام کو اسے چھوڑ دیتا ہے۔اور اس سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔اسی طرح صبح کو ایک شخص سے اس کی دشمنی ہوتی ہے اور اس کی شکل سے بھی بیزار ہوتا ہے۔لیکن شام کو اس کا ایسا دوست بن جاتا ہے کہ کہتا ہے اگر کوئی اسے ٹیڑھی نظر سے بھی دیکھے گا تو میں اسے جان سے ماردوں گا۔ایسے تغیرات ہوتے رہتے ہیں۔جن سے ظاہر ہے کہ عام طور پر انسان اپنے دل کی حالت نہیں جانتا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے قلب کی حالت بتانے کے لئے یہ کیا ہے کہ اسے ابتلاؤں میں ڈالتا ہے۔تاکہ خطرناک حالتوں سے گذر کر اسے اپنی حقیقت کا علم ہو جائے۔ہمارے زمانہ میں اس لئے کہ ہماری حالتیں بوجہ مدتوں مغلوب رہنے کے اچھی طرح مضبوط نہیں۔اور ہم میں وہ دلیری اور جرات نہیں جس کی ضرورت بڑے بڑے ابتلاؤں کو برداشت کرنے کے لئے ہے۔اس لئے خدا تعالٰی نے ہم پر رحم کرکے ہمیں ایسے ابتلاؤں میں نہیں ڈالا جیسے پہلے انبیاء کی جماعتوں کے لئے آتے رہے ہیں۔خدا تعالٰی برداشت کر لینے کی ہمت دیکھ کر ابتلا ڈالتا ہے۔یہ نہیں کہ جو ابتلاء برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو وہ ڈال دے۔ہاں انسان ایسے ابتلاؤں میں ضرور ڈالا جاتا ہے۔جن کے متعلق وہ خیال کرتا ہے کہ برداشت نہیں کر سکوں گا لیکن یہ خیال غلط ہوتا ہے اور اس طرح خدا پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اللہ نے اس پر ظلم کیا ہے کہ جس بوجھ کے اٹھانے کی اس میں طاقت نہ تھی۔اسے اس پر ڈال دیا۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کبھی ایسا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لا يكلف الله نفسا إلا وسعها (البقرة : ۲۸۷) خدا کسی پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جس کے اٹھانے کی اسے طاقت نہ ہو۔بوجھ وہی ڈالا جاتا ہے جس کے اٹھانے کی طاقت ہوتی ہے۔مگر اس وقت تک جب تک کہ اس قوم کو تباہ کرنے کا منشاء نہیں ہوتا۔جو ابتلاء کسی جماعت کی ترقی کے لئے آتے ہیں وہ طاقت برداشت سے باہر نہیں ہوتے۔ہاں جو ہلاکت کے لئے ہوتے ہیں وہ ضرور باہر ہوتے ہیں۔پس مومن کے ابتلاء طاقت سے باہر نہیں ہوتے۔ہاں وہ خیال کر لیتا ہے کہ باہر ہیں۔مگر یہ اس کی غلطی ہوتی ہے۔جب مومن ایک ابتلا کو برداشت کر لیتا ہے تو اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ اس کا ایمان کتنا مضبوط ہے۔پھر اور رنگ میں اس پر ابتلا آتا ہے۔یا اسی رنگ میں آتا ہے جس رنگ میں پہلے آیا ہوتا ہے۔مگر زیادہ سخت اگر اس کو برداشت کر لیتا ہے اور اس سے دل میں کسی قسم کا شکوہ و شکایت پیدا ہونے کی بجائے شکر و امتنان پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے