خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 143

۱۴۳ کر سکتی۔تو درختوں کے پتے گرا دیتا ہے۔کیا کسی نے دیکھا ہے۔کہ ایسے موقع پر جڑ کو اکھاڑ دیا جاتا ہے۔نہیں اس وقت شاخوں پر ہی تخفیف کا اثر ہوتا ہے۔اور جڑ کو اسی وقت کاٹا جاتا ہے۔جب درخت کو اکھیٹر پھینکنا ضروری ہوتا ہے۔ہم ہر سال درختوں کے متعلق خدا تعالی کی تخفیف دیکھتے ہیں۔ایک موسم آتا ہے۔جبکہ زمین پوری غذا مہیا نہیں کر سکتی۔اور دوسرے درختوں کو خوراک دینی ہوتی ہے۔اس وقت کئی درختوں کے پتے کم کر دئے جاتے ہیں۔مثلاً سنگترے کو پتے دینے کی ضرورت ہے تو آم کے پتوں میں تخفیف کر دی جائے گی۔کہ وہ پتے جھاڑ دے۔اور سنگترہ نکال لے۔خدا تعالٰی اس وقت جڑ سے نہیں اکھیڑ دیتا۔جڑ سے اسی وقت اکھیڑتا ہے۔جب وہ چیز قائم رہنے کے قابل نہیں رہتی۔تو تخفیف کا اثر فرع پر پڑتا ہے۔اصل پر نہیں پڑا کرتا۔کیا تم نہیں دیکھتے۔کہ جب لڑائی ہوتی ہے۔تو کوئی یہ نہیں کہتا۔کہ جرنیل اتنی بڑی تنخواہ لیتا رہا ہے۔اس کا بہت سا روپیہ بینک میں جمع ہے۔سپاہی مر گیا۔تو اس کے بال بچوں کو کون پالے گا۔اس لئے جرنیل کو آگے کر کے مرداؤ۔سب یہی کہیں گے۔کہ سپاہیوں کو آگے کرو۔کیوں۔اس لئے کہ جرنیل کے مرنے سے سارے سپاہی مارے جائیں گے۔اور سب کی تخفیف ہو جائے گی۔مگر سپاہی کے مرنے سے ملک نہیں مرتا۔بلکہ زندہ ہوتا ہے۔پس یہ ایسی موٹی بات ہے۔کہ فطرتاً " اور عقلا " بآسانی معلوم ہو سکتی ہے۔مگر ایسے لوگ جو اس پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ایسے لوگوں سے کوئی کس طرح معاملہ کرے۔جن کی عقل ایسی کند ہے کہ معمولی معمولی اور موٹی موٹی باتیں جو انہیں گھروں میں پیش آتی ہیں۔روزانہ کاروبار میں دیکھتے ہیں۔اور خدا کے قانون میں پائی جاتی ہیں۔ان پر ٹھیک طور سے حاوی نہیں ہوتے۔دیکھو۔اگر گھر کے اخراجات میں تخفیف کا خیال پیدا ہو۔تو کیا روٹی کی تخفیف کی جائے گی۔جس پر دس بارہ پندرہ بیس روپیہ ماہوار لگتے ہیں۔یا ایک ریشمی رومال جو چار پانچ روپیہ کو خریدا جاتا تھا۔بات یہ ہے کہ تخفیف کے لئے صرف قلیل اور کثیر خرچ کو نہیں دیکھا جاتا۔بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے۔کہ اس خرچ کو ہٹا کر کام کس طرح چلایا جائے گا۔اور آیا کام خراب تو نہیں ہو جائے گا۔ایک تو یہ بات ہے۔جو میں کہنا چاہتا تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ ایک شخص نے مجھے لکھا ہے۔کہ ”افسران کو متنبہ کر دو۔کہ ان کا معاملہ ماتحتوں سے ٹھیک نہیں ہے۔ورنہ تمہارے ان خطبات کے اثر سے ڈر کر اس وقت لوگ چپ تو ہو جائیں گے۔لیکن چار پانچ ماہ بعد دیکھنا کیا نتیجہ نکلے گا۔اس نے تو چار پانچ ماہ کا عرصہ بتایا ہے۔لیکن میں آج ہی بتاتا ہوں۔کہ کیا ہوگا۔مجھے کسی دنیاوی حکومت نے کھڑا نہیں کیا۔اور نہ