خطبات محمود (جلد 7) — Page 144
۱۳۴ کوئی ایسی حکومت ہے۔جو مجھے ہٹا سکے۔ہمارے بادشاہ جارج پنجم ہیں۔میں ان کا ادب کرتا ہوں۔لیکن باوجود اس کے کہتا ہوں کہ بادشاہ معظم نہیں دنیا کے سارے بادشاہ بھی مل کر مجھے اس منصب سے ہٹانا چاہیں تو نہیں ہٹا سکتے۔کیونکہ مجھے اس پر کسی انسانی طاقت نے کھڑا نہیں کیا۔بلکہ خدا نے کھڑا کیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انسانوں کے منصوبے کچھ نہیں کر سکتے۔بڑے بڑے منادید کیا کرسکے۔مولوی محمد علی صاحب صدر انجمن کے سیکرٹری تھے مولوی صدرالدین ہیڈ ماسٹر تھے۔خواجہ صاحب بڑے لیکچرار سمجھے جاتے تھے۔اور جماعت کا ان پر بہت بڑا انحصار خیال کیا جاتا تھا۔یہ اور ان کے ساتھی سارے کاموں پر حاوی تھے ان کے مقابلہ میں وہ تھا جسے انہوں نے ہمیشہ کوشش کر کے کاموں سے علیحدہ رکھا۔جس کی عمر ایسی عمر نہ تھی کہ بڑی عمر والے اس کے سامنے ادب سے بات کرتے۔جس کا علم کوئی ایسا علم نہ تھا کہ دنیاوی طور پر عالموں کو کچھ سکھا پڑھا سکتا۔جس کی عقل و خرد کا کوئی ایسا نمونہ نہیں دیکھا گیا تھا۔جس کا خاص اثر ہوتا۔اور جس کا خاندانی لحاظ سے اثر چھ سال پہلے مٹ چکا تھا۔کیونکہ اگر خاندانی اثر کا لحاظ کیا تھا۔تو محمود خلیفہ بنتا۔نور دین نہ بنتا۔ان حالات کے باوجود جب وہ سارے کے سارے مقابلہ پر کھڑے ہو گئے۔تو انہوں نے کیا بنا لیا۔کچھ حاصل نہیں کیا۔بلکہ کھویا ہی ہے۔آج سے ساٹھ سال پہلے جماعت میں ان کی جو عزت تھی۔کیا اب بھی ہے۔کس زور سے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ۹۹ فیصدی لوگ ان کے ساتھ ہیں۔لیکن کس صفائی کے ساتھ ان کا یہ اعلان باطل ہوا۔تو یہ خدا تعالیٰ کے قبضہ میں بات ہے۔جب تک وہ سمجھے گا کہ یہ انتظام سلسلہ کے لئے مفید ہے اس وقت تک سے چلائے گا۔اور جب سمجھے گا یہ مفید نہیں تو ایسی مخفی صورتیں پیدا کر دے گا۔جن کا کسی کو پتہ بھی نہیں۔اور یہ مٹ جائے گا۔ان صورتوں کا آج علم نہیں ہو سکتا۔اسے مگر میں نے تو اپنے پہلے خطبوں میں بتایا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ صفائی سے کہہ دیں کہ کس کے لئے یہاں رہتے ہیں۔خدا اور رسول اور ان کے خلفاء سے ان کا تعلق ہے یا ملازمت کرنے سے۔جب یہ کہدیا گیا۔تو پھر جو ایسا منافق طبع انسان ہے۔جو مال و دولت کے لئے۔ملازمت کے لئے۔ہیڈ ماسٹریا منیجر سکول کے لئے یہاں رہتا ہے۔وہ کیا کر سکتا ہے۔کیا منافق بھی کبھی مومن کے مقابلہ میں جیتا کرتا ہے۔اگر یہاں کوئی دل میں شکوہ و شکایت رکھ کے رہتا ہے تو وہ منافق ہے اور منافق خواہ لاکھ بھی ہوں کچھ نہیں کر سکتے۔پہلے منافقوں نے کیا کر لیا تھا کہ اب کوئی کر لے گا۔منافق کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اول تو اسے ظاہری کامیابی بھی کم ملتی ہے اور اگر مل جائے تو بہت ہی جلدی ذلیل ہو کر گر جاتا ہے۔حضرت عثمان کے زمانہ کا واقعہ ہے۔جسے عام لوگ سمجھے نہیں۔مگر مجھے خدا تعالیٰ نے خاص