خطبات محمود (جلد 7) — Page 142
۱۴۲ سارے بچوں کے زندہ رہنے سے پڑتی ہے۔اسی طرح افسر کے ہٹانے کے معنی ہوں گے۔کہ سارا کام خراب کر دیا جائے۔ایک ہیڈ ماسٹر جس کے ماتحت دس بارہ مدرس کام کرتے ہیں اس کو ہٹانا مناسب ہو گا۔کہ اس کی تنخواہ زیادہ ہے یا مدرسوں میں سے کچھ الگ کر دینے مناسب ہوں گے۔جن کی تنخواہ کم ہوگی۔اگر ہیڈ ماسٹر کو ہٹایا جائے گا۔تو اس کا کام دوسروں پر تقسیم کر دیا جائے گا۔اور کام چلتا رہے گا۔اسی طرح تخفیف کا سوال اٹھے گا۔تو ضلع کے ڈپٹی کو ہٹایا جائے گا اس کے ماتحت جو چار پانچ تحصیل دار کام کر رہے ہوں گے ان میں کمی کی جائے گی۔یا تخفیف کی ضرورت کے ماتحت تھانے داروں میں سے بعض کو۔انسپکٹر ہٹا دیا گیا تو کام کس طرح چلے گا۔اور تھانے داروں سے کام کون لے گا۔اسی طرح اگر ڈپٹی نہ رہا۔تو تحصیل داروں سے کام کون کرائے گا۔ہر ایک اپنی اپنی رائے کے ماتحت کام کرے گا۔اور اس طرح کام میں ابتری پڑ جائے گی۔تو یہ اعتراض جو کیا گیا ہے۔سخت جاہلانہ اعتراض ہے اور میرے نزدیک اس بات پر دلالت کرتا ہے۔کہ جس قلب میں یہ اعتراض پیدا ہو رہے ہیں۔اس سے نیکی اور صداقت مٹ گئی ہے۔کیونکہ جہاں یہ موجود ہوتی ہے۔وہاں ایسا غلط اور نا درست قدم نہیں اٹھایا جاتا۔وہاں بات کرنے سے پہلے سوچ لیا جاتا ہے۔اور کہنے سے قبل اپنے دل پر قابو پا لیا جاتا ہے۔اور دیکھ لیا جاتا ہے کہ کیا کہنے لگا ہوں۔جن آدمیوں کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی ہے۔اور دو نے تو مجھ تک یہ بات پہنچائی ہے۔وہ ایک پنجابی مثل کے مطابق ہے کہ جس بات پر بیٹے کی بیوی کو گالیاں دینی ہوتی ہیں۔وہ اپنی بیٹی کی طرف منسوب کر کے اسے گالیاں دی جاتی ہیں۔اور چونکہ وہ کام اس نے نہیں کیا ہوتا۔اس لئے وہ اپنے آپ کو اس بارے میں مخاطب نہیں سمجھتی۔اور اس طرح اس کو آگے رکھ کر بیٹے کی بیوی کو گالیاں نکالی جاتی ہیں۔اسی طرح یہ لوگ دوسروں کے نام لیکر کہ انجمن نے یا نظارتوں نے فلاں بے وقوفی کی بات کی ہے۔مجھے بے وقوف بناتے ہیں۔کیونکہ کام میں نے کیا ہوتا ہے۔اس لئے جو کچھ وہ دوسروں کا نام لیکر کہتا ہے۔مجھے ہی کہتا ہے۔میں یہ نہیں کر سکتا۔کہ کام تو خود کروں اور ذمے دوسروں کے لگادوں کیونکہ غدار نہیں ہوں۔جو کام میں نے کیا۔میں اس کی ذمہ داری سے بری نہیں ہوتا۔اس لئے میں یہی کہہ سکتا ہوں۔کہ اگر یہ کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔اور اگر درست اور مناسب بات ہوئی ہے۔تو بھی میں ایک حد تک اس کا ذمہ دار ہوں۔مگر میں نے بتایا ہے کہ یہ اعتراض کسی طرح بھی ٹھیک نہیں ہے۔خدا تعالی بھی جب تخفیف کرنے پر آتا ہے۔اور جب زمین پودوں کے لئے پوری غذا مہیا نہیں