خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 421

۴۲۱ کا خیال بھی رکھتے ہیں۔گو کھانا دینا محبت نہیں۔مگر یہ محبت کے آثار میں سے ضرور ہے۔اسی طرح اللہ تعالٰی کے لئے بھی محبت کی علامتیں ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے جو میں اس وقت بیان کرتا ہوں قاعدہ ہے کہ جس سے محبت ہو انسان اس کے متعلقات سے محبت کرتا ہے۔اور اس کی صفات کی نقل کرتا ہے۔اس لئے کوئی شخص روحانیت میں ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ صفات باری تعالیٰ کی نقل نہیں کرتا۔کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا سے محبت ہو اور اس کے صفات کو اپنے اندر جذب نہ کرے۔اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے جو صفت انسان سے خصوصیت سے تعلق رکھتی ہے وہ رب العالمین کی صفت ہے۔خدا تعالیٰ رب ہے۔ساری دنیا اس کی پیدا کی ہوئی ہے۔ہندوستان کے باشندے اس کی مخلوق ہیں۔افریقہ کے اس کی مخلوق ہیں۔یورپ و امریکہ کے لوگ اس کی مخلوق ہیں۔اس لئے خدا کی ساری مخلوق انسان کی نظر میں محبوب ہونی چاہئیے۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ باپ سے محبت ہو اور اس کے بیٹے سے دشمنی یا باپ سے دشمنی ہو اور بیٹے سے دوستی۔کوئی محبت کا تعلق ایسا نہیں مل سکتا جس میں متعلقات کی محبت کو چھوڑ دیا گیا ہو۔متعلقات کی محبت اصل کے ساتھ خود بخود آجاتی ہے دیکھو بادشاہ یا پریذیڈنٹ ہوتے ہیں بادشاہ کی ملکہ یا پریذیڈنٹ کی بیوی کو بادشاہ یا پریذیڈنٹ منتخب نہیں کیا جاتا لیکن کسی شخص کے بادشاہ مقرر ہونے یا پریذیڈنٹ تجویز ہونے کے ساتھ ہی اس کی بیوی بھی اس کی عزت میں شریک ہو جاتی ہے۔جہاں بادشاہ اور پریذیڈنٹ جاتے ہیں اور ان کے استقبال ہوتے ہیں ان کی بیویوں کے بھی استقبال کئے جاتے ہیں۔سارا ملک ان کی بیویوں کی بھی عزت کرتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ بادشاہ یا پریذیڈنٹ کی بیوی ہیں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرے۔مگر اس کے بندوں سے محبت نہ کرے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور نبیوں کی محبت تو لازمی کردی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ اللہ کے منتخب بندے ہیں۔ورنہ موسیٰ بھی ایسے ہی آدمی تھے جیسے اور۔ہارون و عیسی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیوں کی جاتی ہے۔اس لئے کہ وہ خدا کے تھے۔اس لئے انکی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ گو وہ مخلوق تو خدا کی ہی ہوتے ہیں کہ سب اسی کی مخلوق ہے۔لیکن باوجود مخلوق ہونے کے ان کا خدا سے تعلق نہیں ہوتا۔ان کی اطاعت ضروری نہیں ہوتی۔مگر ان سے سلوک کرنا ضروری ہوتا ہے۔پس اللہ تعالی تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے سلوک کرو۔والدین کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے کہ ان کے بیٹے کو پیار کرو۔اسی طرح اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو۔