خطبات محمود (جلد 7) — Page 420
78 شفقت على خلق الله (فرموده یکم دسمبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسان کی پیدائش کی غرض اور اس کے دنیا میں بھیجنے سے مقصود اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی بندگی ہے۔اس لئے انسانی زندگی کا مقصد بغیر اس کے پورا نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ سے تعلق اور محبت نہ ہو۔مگر ہر ایک بات کی کوئی علامت ہوتی ہے۔مثلاً ایک مہمان ایک شخص کے ہاں آتا ہے۔مہمان کا اکرام ہر ایک شریف آدمی کا مقصد ہونا چا ہئیے۔جو شخص شرافت کا مادہ رکھتا اور شریعت سے تعلق رکھتا ہے اس کا فرض ہے جب اس کے یہاں مہمان آئے تو اس کا اعزاز و اکرام کرے۔گر اعزاز و اکرام دل سے تعلق رکھتا ہے دل ہی ہے جو کسی کا احترام کرتا ہے۔اور دل ہی ہے جو عزت کرتا ہے۔لیکن دل کی کیفیت ظاہر کرنے کے لئے ظاہری سامان ہوتے ہیں اگر کوئی شخص کسی کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔یا اس کے لئے غالیچہ بچھا دیتا ہے مگر دل میں چاہتا ہے کہ اس کو سخت نقصان پہنچائے تو اس کے یہ ظاہری نشان اس کے دل کی حالت کے خلاف ہوں گے اور یہ اس شخص کا اعزاز نہ ہوگا کیونکہ اعزاز و احترام دل سے ہوا کرتا ہے۔تو یہ سچ ہے کہ دل ہی اعزاز و اکرام کرتا ہے مگر جب تک اس کے ساتھ ظاہری علامات نہ ہوں اعزاز و اکرام کا پتہ نہیں لگ سکتا محبت دل کی چیز ہے۔بچے کو جو چیز ماں باپ کھانے پینے کو دیتے ہیں وہ محبت نہیں ہوتی دشمن اور غیر سے بھی انسان ایسا سلوک کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔لوگ نمود کے لئے بڑے بڑے چندہ دیتے ہیں۔غریب خانے کھولتے ہیں۔باوجود اس کے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا شخص غربا سے محبت کرتا ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ خالی خولی محبت بھی نہیں ہوتی۔جب تک اس کے ظاہری آثار نہ ہوں۔گو ماں باپ بچہ کو جو کھانا دیتے ہیں اسے محبت نہیں کہہ سکتے لیکن یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ماں باپ کھانے پینے کو نہ دیں اور پھر یہ کہا جائے کہ وہ محبت کرتے ہیں پس ماں باپ محبت کرتے ہیں اور بچہ