خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 422

کم اور چاہتے ہو کہ خدا تم سے محبت کرے تو اس کے بندوں سے پیار کرو۔دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا اور دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں ہے۔جس نے اس بات پر زور نہ دیا ہو کہ شفقت علی خلق اللہ کرو۔جب یہ ایسا مسئلہ ہے کہ آج تک بدلا نہیں۔تو اس پر عمل کرنا کس قدر ضروری ہے۔دیکھو شراب ایک زمانہ میں حلال تھی پھر حرام ہوئی۔ایک زمانہ میں پردہ نہ تھا پھر ہوا۔لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ ابتدا سے اس میں تغیر نہیں آیا یہ مسئلہ اسی طرح چلا آتا ہے اور اس پر زور دیا جاتا ہے کہ خدا کی مخلوق سے پیار اور سلوک کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ نہایت اہم حکم ہے اور اس پر عمل کرنا روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں بہت ہیں جو خدا سے ملنا چاہتے ہیں مگر ان میں رحم نہیں خدا کی مخلوق سے ہمدردی نہیں۔اس کے بندوں سے نیک سلوک کرنے میں کمی کرتے ہیں۔اور ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ گویا ان کو تعلق ہی نہیں۔دنیا میں تین قسم کے خیالات ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ جو بدسلوکی بھی کرتا ہے اس سے نیک سلوک کیا جائے دوسرے یہ کہ جو نیک سلوک نہ کرے پھر بھی اس سے اچھا سلوک کرے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان سے نیکی کرتا ہے اس کے بھی وہ بد خواہ ہوتے ہیں۔جو ہاتھ ان پر احسان کرتا ہے اس کو کاٹتے ہیں جو ان کی نیکی چاہتا ہے وہ اس کی ذلت چاہتے ہیں وہ احسان کی قدر نہیں جانتے۔ہاں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کو احسان کی قدر ہوتی ہے۔مگر احسان کی شناخت نہیں کر سکتے وہ سمجھ نہیں سکتے کہ ان سے احسان کیا گیا ہے۔بعض روپیہ کا نام احسان رکھتے ہیں۔لیکن اگر کوئی مدرس ہو۔جس سے انہوں نے پڑھا ہے تو وہ اس کے احسان کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں اس نے ہم پر کیا احسان کیا ہے۔یا اگر کوئی ان کو نیک نصیحت کرتا ہے یا ان کو علم دیتا ہے یا ان کے لئے دعائیں کرتا ہے تو اس کو ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ اس کا ان پر کوئی احسان نہیں۔وہ اپنے ذہن میں محسن کی قدر کرتے ہیں۔مگر ان کو احسان کی شناخت نہیں ہوتی۔ان کو ماں باپ کے لئے غیرت ہوتی ہے اور جوش ہوتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کو جوش نہیں آئے گا۔ماں باپ کا یہ احسان تو ان کو یاد رہتا ہے۔کہ انہوں نے ان کی پرورش کی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کو بھول جاتے ہیں کہ آپ نے ان کو روحانیت کا لباس دیا۔ایسے لوگوں کی مثال اس نادان کی سی ہے جس کو ایک شخص تاریکی میں لالٹین دیتا ہے کہ وہ اس کی روشنی میں اپنے گھر پہنچ جائے۔وہ اس کا تو احسان مانتا ہے اور اس کا تو شکریہ ادا کرتا ہے۔اور اس سے آنکھ نیچی رکھتا ہے۔لیکن وہ خدا جو ہر روز اس کے لئے سورج چڑھاتا ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے سارے کام کرتا ہے۔اس کے متعلق نہیں مانتا کہ خدا