خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 198

الصراط المستقیم مجھے وہ رستہ دکھا کہ جس پر چل کر مجھے وہ ملامتیں پیدا نہ ہوں جو گذشتہ سال کے طرز عمل سے پیدا ہوئی ہیں۔اگلے سال میرے یہ خیال نہ ہوں۔بلکہ یہ کہوں کہ صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين- میں نے خدا تعالٰی سے رستہ مانگا تھا۔اس نے مجھے دکھایا جو بالکل سیدھا رستہ تھا۔جس پر وہ لوگ چلتے رہے۔جن پر اس نے انعام کئے۔اور وہ خال اور مغضوب لوگوں کا رستہ نہ تھا۔یہ وہ پروگرام ہے جو ہماری جماعت کے مد نظر رہنا چاہیے۔اس کے متعلق یہ تو سال کے ختم ہونے پر ہی معلوم ہو سکے گا کہ کتنا پورا کیا گیا یا پچھلا تجربہ بتا سکتا ہے کہ پچھلے سال کتنا پورا کیا تھا۔اور آئندہ کتنا پورا ہو گا۔بہر حال پروگرام مقرر کرنے سے یہ احساس ضرور پیدا ہو جاتا ہے کہ انسان عمل کو تقسیم کر کے معلوم کر سکتا ہے کہ پیچھے کیا ہوا۔اور آگے کیا کرتا ہے۔اور سالوں کو تقسیم کر کے وہ آگے کے لئے مستعد اور تیار ہو جاتا ہے۔اگر ساری عمر یہ نظر ہوتی تو وہ کہنا اتنا عرصہ خراب ہو گیا ہے۔اب کیا کروں گا۔مگر اس حصہ کو جو گذر جاتا ہے۔وہ الگ کر دیتا ہے۔اور نئے سرے سے کام کرنے لگتا ہے۔اس طرح اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ہم نے بھی یہ پروگرام بنایا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم دیکھیں پچھلے سال جو خطائیں اور کوتاہیاں ہوئی ہیں۔وہ اس سال نہ ہوں۔گذشتہ سال کے متعلق خدا تعالی کا شکر کریں۔کہ اس نے ہمیں اپنی خطاؤں کے خمیازہ سے محفوظ رکھا۔اور آگے کیلئے اس سے درخواست کریں کہ سیدھا رستہ دکھائے۔یہ بہترین سے بہترین پروگرام ہے۔اور اس سے بہتر کوئی پروگرام نہیں ہو سکتا۔بندہ کا فرض ہے کہ اس کو اپنا نصب العین قرار دے۔جب وہ اسے اپنا نصب العین قرار دے گا تو کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا۔اس پروگرام کو اگر ہماری جماعت یاد رکھے جس کو سورہ فاتحہ میں بیان کیا گیا ہے تو اگلا سال جو اس پر آئے گا وہ اس کے لئے سورہ فاتحہ کو اور رنگ میں پورا کرے گا۔یہ سورۃ تو وہی رہے گی مگر یہ کروڑں معنی رکھتی ہے۔اور میں نے نہیں دیکھا کہ آج تک اس کے معنی ختم ہوئے ہوں۔تو اگلے سال اس کے معنی اور رنگ میں ہونگے۔بہر حال یہ پروگرام ہے۔جسے ہماری جماعت کے ہر شخص کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔پہلے حصہ کو پچھے سال پر چسپاں کر کے غور کرنا چاہیے۔اور اگلا حصہ پچھلے سال پر چسپاں کرنا چاہیے۔اگر یہ نصب العین رہے۔تو کمزور سے کمزور انسان بھی اسے کچھ نہ کچھ پورا کر لے گا۔مختصراً اس دفعہ اتنا ہی بیان کرتا ہوں۔تفصیل اللہ تعالی چاہے تو آئندہ بیان ہوتی رہے گی۔خدا تعالی ہماری جماعت کو توفیق دے کہ آئندہ کے لئے جو اس کا پروگرام ہے۔اسے پورا کر سکے۔الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۲۲ء)